LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چینی صدر کی امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی پیشکش امریکی نمائندے کیف میں کوئی نئی تجاویز لے کر نہیں آئے، دفتر یوکرینی صدر فوجی صلاحیتیں دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ، قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: سربراہ ایرانی فوج امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے، ایرانی صدر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیے تو وہ اسرائیل کو تباہ کر دے گا، امریکی صدر یوکرین سے مذاکرات کیلئے تیار، خصوصی فوجی آپریشن نہیں روکیں گے: لاوروف علی ناصر رضوی ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے اور خرم آغا نیشنل پولیس بیورو تعینات ڈیجیٹل اثاثوں کے مؤثر ضابطے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے: بلال بن ثاقب آصف زرداری کا بیرونِ ملک دورہ نجی، اخراجات خود برداشت کئے: ایوانِ صدر کی وضاحت عوام کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے: رضا ربانی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد، برکس ممالک کی دو ریاستی حل کی حمایت محدود ممالک کے مفادات کا تحفظ کرنے والا یک قطبی عالمی نظام ماضی کا حصہ بن رہا ہے: پوتن ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے بات چیت نہیں ہوگی: وزیراعلیٰ بلوچستان صدر پوتن برکس سربراہی اجلاس کی اہم سرگرمیوں میں شرکت کریں گے ریڈیو پاکستان کیس: پولیس رپورٹ میں سہیل آفریدی کے ملوث ہونے کی تصدیق

عوام کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے: رضا ربانی

Web Desk

12 September 2026

سابق چیئرمین سینیٹ اور رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل ملک کو درپیش مسائل کا حل نہیں ہے، بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بلدیاتی نظام اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بلدیاتی نظام کو کبھی مطلوبہ اختیارات نہیں دیے گئے، جبکہ محض انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم سے وفاقی نظام متاثر ہوگا اور ملک کی داخلی صورتِ حال میں مزید نئی فالٹ لائنز پیدا ہو سکتی ہیں۔

رضا ربانی نے وضاحت کی کہ پاکستان کے موجودہ صوبے تاریخی، لسانی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم ہیں، اس لیے کسی بھی صوبے کی مزید تقسیم کا فیصلہ محض انتظامی بنیادوں کے بجائے آئینی طریقہ کار کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت اور وہاں کے عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ ملک کی سیاسی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں ہائبرڈ نظام قائم ہے جہاں پارلیمان کا کردار محدود ہو چکا ہے۔ انہوں نے قانون کی حکمرانی کے لیے عدلیہ کی آزادی پر زور دیا اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی حمایت کرتے ہوئے شفاف اور محفوظ طریقہ کار وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آزاد کشمیر میں ہونے والے حالیہ مرحلہ وار انتخابات کی شفافیت پر پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا۔