پاکستان اور بائنانس میں بلاک چین تعاون کا معاہدہ،ورچوئل ایسٹس ریگولیشن کے نئے دور کا آغاز
Web Desk
12 December 2025
پاکستان اور عالمی کرپٹو ایکسچینج بائنانس کے درمیان بلاک چین کے شعبے میں تعاون کے لیے اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ اور بائنانس انویسٹمنٹ کمپنی کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے، جس پر وزیر خزانہ اور بائنانس کے سی ای او رچرڈ ٹینگ نے دستخط کیے۔



اعلامیے کے مطابق پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی آر اے) نے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو این او سی جاری کردیا ہے، جس کے تحت دونوں کمپنیاں گو ایم اے ایل (GoAML) سسٹم پر رپورٹنگ اینٹیٹی کے طور پر رجسٹر ہو سکیں گی۔ رجسٹریشن کے بعد اے ایم ایل (Anti-Money Laundering) تقاضوں کے مطابق باقاعدہ رجسٹرڈ سروسز فراہم کی جا سکیں گی۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ایم او یو کا بنیادی مقصد حکومتی اور خودمختار اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لینا ہے، جن میں حکومتی بانڈز، ٹریژری بلز، کموڈٹی ریزروز اور دیگر وفاقی سطح کے اثاثے شامل ہوں گے۔ اس اقدام میں دو ارب امریکی ڈالر تک کے اثاثے شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
اعلامیے کے مطابق پی وی آر اے کا مرحلہ وار اور رسک بیسڈ ریگولیٹری طریقہ کار بین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد صارف تحفظ، مالی استحکام اور ذمہ دارانہ جدت کو یقینی بنانا ہے۔ وزیر خزانہ نے این او سی فریم ورک کو پاکستان کے مالی نظم اور عالمی معیار کے مطابق جدت اختیار کرنے کے عزم کا ثبوت قرار دیا۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ پی وی آر اے دنیا کی پہلی اے آئی سے چلنے والی ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بن رہی ہے، جس نے اے آئی بیسڈ ایویلیوایشن سسٹم اور اے آئی اسسٹڈ ریگولیٹری ٹول بھی متعارف کرا دیا ہے۔ ان کے مطابق نئے ٹولز سے نگرانی بہتر ہوئی ہے اور ریگولیٹری فریم ورک عالمی معیار سے ہم آہنگ ہو گیا ہے۔
پی وی آر اے کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا کہ این او سی کا اجراء پاکستان میں ڈیجیٹل ایسٹ ایکو سسٹم کے نئے دور کا آغاز ہے اور یہ ریگولیٹڈ، مکمل لائسنس یافتہ ماحول کی طرف پہلا قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کرپٹو اپنانے میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، جب کہ ملک میں ڈیجیٹل ایسٹ صارفین کی تعداد تین سے چار کروڑ کے درمیان ہے۔ پاکستان سے منسلک سالانہ ڈیجیٹل ایسٹ ٹریڈنگ کا حجم 300 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
بلال بن ثاقب کے مطابق فریم ورک نہ صرف ایف اے ٹی ایف معیار سے ہم آہنگی بڑھاتا ہے بلکہ عالمی پلیٹ فارمز کو بہتر گورننس اور کمپلائنس کے ساتھ پاکستان میں کام کرنے کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی وی آر اے کی پیش رفت فعال اور فیصلہ کن ریگولیٹری عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایران سے معاہدے میں تمام فریقین کے خدشات دور کرنا ضروری ہیں: قطر
16 October 2026
یقین ہے آرمینیا ایران کی سلامتی کیخلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا: عباس عراقچی
16 October 2026
ٹرمپ نے ایران کیخلاف کوئی اقدام کیا تو خطے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا: ابراہیم عزیزی
16 October 2026
وفاقی حکومت نے گورنر خیبرپختونخوا کی تبدیلی کا امکان مسترد کردیا
16 October 2026
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹی زکریا کو پانچ روز بعد ہی عہدے سے ہٹا دیا
16 October 2026
ریلوے کوچز کے پرزوں کی بروقت خریداری نہ ہونے پر وفاقی وزیر برہم، انکوائری کا حکم
16 October 2026
استنبول میں سیلاب سے جانی نقصان پر شہباز شریف کا اظہار افسوس
16 October 2026
گورنر پنجاب نے اپنی استاد کو گورنر ہاؤس میں اپنی کرسی پر بٹھا دیا
16 October 2026