حکومتی پالیسیوں، عدلیہ پر حملوں اور سیاسی انتقام پر شدید برہمی: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا دھواں دھار خطاب
Web Desk
23 June 2026
قومی اسمبلی کے انتہائی اہم اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) محمود خان اچکزئی نے موجودہ حکومت کے ڈھائی سالہ دورِ اقتدار، اسپیکر کے غیر آئینی رویوں، سیاسی قیدیوں کی طویل سزاؤں، اور وفاقی اکائیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر ایک تاریخی، تلخ اور حقیقت پسندانہ خطاب کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے حکومت اور ریاستی اداروں کو اب اپنا رویہ اور ٹون تبدیل کرنا ہوگا، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ خطاب کے فوراً بعد اپوزیشن اراکین نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
محمود خان اچکزئی نے اسپیکر کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے طویل تجربے کے باوجود اس ہاؤس کو جس انداز میں چلایا گیا، اس میں آئین و قانون کو مسلسل پامال کیا گیا۔ آپ نے چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہی 14 پارلیمانی رفقاء (کولیگز) کو اسمبلی سے فارغ کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے اپنے ووٹوں کے ذریعے آئین کو روندا، عدلیہ کے پر کاٹے اور پارلیمان کی طاقت کو بوٹ تلے دبا کر اسے ایک معمولی ‘مباحثہ کلب’ سے بھی کم حیثیت دے دی۔انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا کی تاریخ میں کبھی کسی کو 286 سال کی قید ہوئی ہے؟ آپ نے 5 سیاسی قیدیوں کو مجموعی طور پر 286 سال کی سزا سنا کر ایک بھیانک ریکارڈ قائم کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ستر (70) سال سے زائد عمر کے بزرگ قیدیوں پر ظلم کیا جا رہا ہے، جنہیں انگریز کے دور میں بھی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ، آپ نے ماہ رنگ بلوچ کو عمر بھر کی جیل دے دی، بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو جیلوں میں ڈال رکھا ہے، جو اس ملک کے حکمرانوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ حکومتی وزراء کے اسلام آباد میں ‘اچھی جیل’ بنانے کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ آپ نے تو پورے پاکستان اور آزاد کشمیر کو ہی ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز آزاد کشمیر کا ایک وفد مجھ سے ملنے آیا، جس میں شامل خواتین رو رہی تھیں کہ کشمیر میں آٹا، بجلی، خوراک اور ادویات تک بند کر دی گئی ہیں اور کشمیری بھوک سے چیخ رہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کے پچھلے خطاب کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے وزیراعظم کی باتوں میں کوئی مزہ نہیں آیا۔ انہوں نے وزیراعظم کو مخلصانہ مشورہ دیا کہ
“شہباز بھائی! آج ہی بلوچوں، سندھیوں اور پشتونوں کو بلائیں اور اعلان کریں کہ جس کی زمین سے جو وسائل (گیس، معدنیات) نکلتے ہیں، ان پر پہلا حق وہاں کے بچوں کا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ سمجھا جائے، نہ کہ کوئی بیرونی علاقہ۔”
اپوزیشن لیڈر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کی فوج ہماری اپنی فوج ہے اور یہ دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ جس طرح دنیا کے باقی جمہوری ممالک میں افواج اپنے آئین کے تحت منتخب سول حکومتوں کے تابع ہوتی ہیں، یہاں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔انہوں نے وزیراعظم کو پیشکش کی کہ اگر آپ پارلیمان کی بالادستی اور آئین کی حفاظت کے لیے قدم آگے بڑھاتے ہیں، تو اپوزیشن اس ہاؤس کو مضبوط کرنے کے لیے حکومت کو غیر مشروط سپورٹ (Unconditional Support) دینے کے لیے تیار ہے۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب کا اختتام انتہائی دلگرفتہ انداز میں کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں وفاداریاں تبدیل کروانے کے لیے بچوں پر تشدد کیا جاتا ہے، جو بکتا ہے اسے معزز بنایا جاتا ہے اور جو غیرت دکھائے اسے مارا پیٹا جاتا ہے۔ ہماری ہی غلطیوں کی وجہ سے پہلے ملک ٹوٹا، اب اس ملک پر رحم کریں۔ انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “آپ اپنا بجٹ منظور کریں، ہم جا رہے ہیں”، جس کے بعد اپوزیشن کے تمام اراکین احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
متعلقہ عنوانات
ایرانی صدر دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد وطن روانہ
23 June 2026
لندن ہاکی پرو لیگ میں پاکستانی پرچم کی غلط نمائش, انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی صدر پی ایچ ایف محی الدین احمد وانی سے غیر مشروط معذرت
23 June 2026
وزیراعظم اور ایرانی صدر کی پریس کانفرنس، مشترکہ امن کوششوں کا اعادہ
23 June 2026
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ‘سی پی ایس پی’ کی جانب سے اعزازی فیلوشپ ڈگری سے نواز دیا گیا
23 June 2026
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کی بڑی کامیابی ہے: وزیراعظم
23 June 2026
اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس، اسپیکر قومی اسمبلی کے رویے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور، بجٹ مسترد
23 June 2026
پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، چار بلز کی منظوری
23 June 2026
بانی کے خلاف پاکستان کا مہنگا ترین سائفر کیس چلایا گیا جو جھوٹا ثابت ہوا,علیمہ خان
23 June 2026