LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انرجی سیکیورٹی کے حوالے سے اہم اجلاس توانائی بحران اور علاقائی کشیدگی کے باعث کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی: گیلپ پاکستان سروے محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ پر تبادلہ خیال آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کی وجہ امریکی و اسرائیلی جارحیت ہے: عراقچی وزیراعلیٰ پنجاب نے ”اپنا کھیت، اپنا روزگار سکیم“ پورٹل کا افتتاح کر دیا پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر مندی کا رجحان اسرائیل کا شمالی غزہ میں ڈرون حملہ، 3 بچوں سمیت 5 فلسطینی شہید ایران سے سیز فائر کی ڈیڈ لائن طے نہیں کی، وقت کا تعین کمانڈ ان چیف کرینگے: کیرولین لیوٹ امریکی وزیر نیوی جان سی فیلن اچانک مستعفی، فوری طور پر عہدہ چھوڑ دیا ایرانی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں جمعہ کے مذاکرات کی حتمی تصدیق سے  انکار کردیا سہیل آفریدی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی آنکھ کا مسئلہ سازش قرار دے دیا جنگ بندی کے خاتمے کی کوئی ڈیڈلائن نہیں، ایران اندرونی اختلافات شکار ہے: وائٹ ہاؤس ایران میں 8 خواتین سزائے موت میری درخواست پر روک دی گئی، امریکی صدر فٹبال ورلڈ کپ 2026: ایران نے شرکت اور مکمل تیاری کا اعلان کردیا ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع صرف3سے 5روزکےلیے کی، جلد ڈیل چاہتےہیں، امریکی میڈیا

کھانے کا اہتمام نہیں ہوگا، معذرت قبول کریں، شادی کا دعوت نامہ وائرل

Web Desk

21 November 2025

روایتی پاکستانی شادیوں میں پر تکلف کھانوں اور بڑی تقاریب کا اہتمام ایک عام روایت ہے۔

تاہم ایک شادی کا کارڈ حال ہی میں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہا ہے جس نے اپنی غیر معمولی مگر نہایت بامقصد عبارت سے سب کی توجہ کھینچ لی ہے۔

کارڈ وائرل ہونے کی خاص وجہ اس پر کھانے سے متعلق لکھا نوٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’معذرت قبول کیجیئے، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے کھانے کا اہتمام نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘۔

اس فیصلے نے سوشل میڈیا صارفین کے دلوں کو جیت لیا۔ لوگوں نے اس عمل کو تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خوشی کے موقع پر دکھاوا ضروری نہیں، بلکہ اصل اہمیت نیت، برکت اور سادگی کی ہوتی ہے۔

صارفین نے اس خاندان کی سادگی کی تعریف کی اور کہا کہ اگر ایسی سوچ فروغ پائے تو شادیوں میں فضول خرچی کم ہو سکتی ہے اور مذہبی و معاشرتی توازن بہتر طریقے سے قائم ہوسکتا ہے