LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا دسمبر کے پہلے ہفتے میں دورۂ روس متوقع: ذرائع آئی ٹی کے شعبے میں 40 ارب ڈالر کے مواقع موجود ہیں: حافظ نعیم الرحمان پاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقوی زلمے خلیل زاد کا پاکستان پر افغانوں کو طالبان کیخلاف استعمال کرنے کا الزام، فیکٹ چیک جاری وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ روس متوقع، صدر پوتن سے ملاقات ہوگی پاکستان، برطانیہ، فرانس سمیت 8 ملکوں کا مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے سفارتی حل پر زور بھارت کی ہندوتوا پالیسی پر مبنی سیاست خطے میں بدامنی کا باعث ہے: مشیر نیشنل کمانڈ اتھارٹی انٹرنیشنل ماسٹرز ویٹ لفٹنگ، ایل سی ڈبلیو یو کی طالبہ نے دو گولڈ میڈلز جیت لئے خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی دورِ حکومت میں 18 ارب روپے کی خوردبرد کا انکشاف راولپنڈی: سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کے گھر چوری وزیرخزانہ نے خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کو تسلی بخش قرار دیدیا امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج سعودیہ پر حوثیوں کے حملے، خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈز کے اجرا کا طریقہ کار سخت کرنے کا فیصلہ بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے پر وفاقی سطح کی جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ

کھانے کا اہتمام نہیں ہوگا، معذرت قبول کریں، شادی کا دعوت نامہ وائرل

Web Desk

21 November 2025

روایتی پاکستانی شادیوں میں پر تکلف کھانوں اور بڑی تقاریب کا اہتمام ایک عام روایت ہے۔

تاہم ایک شادی کا کارڈ حال ہی میں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہا ہے جس نے اپنی غیر معمولی مگر نہایت بامقصد عبارت سے سب کی توجہ کھینچ لی ہے۔

کارڈ وائرل ہونے کی خاص وجہ اس پر کھانے سے متعلق لکھا نوٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’معذرت قبول کیجیئے، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے کھانے کا اہتمام نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘۔

اس فیصلے نے سوشل میڈیا صارفین کے دلوں کو جیت لیا۔ لوگوں نے اس عمل کو تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خوشی کے موقع پر دکھاوا ضروری نہیں، بلکہ اصل اہمیت نیت، برکت اور سادگی کی ہوتی ہے۔

صارفین نے اس خاندان کی سادگی کی تعریف کی اور کہا کہ اگر ایسی سوچ فروغ پائے تو شادیوں میں فضول خرچی کم ہو سکتی ہے اور مذہبی و معاشرتی توازن بہتر طریقے سے قائم ہوسکتا ہے