LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فلسطین پر اسرائیلی قبضے تک مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ممکن نہیں: پاکستان واشنگٹن میں نیتن یاہو کیخلاف احتجاج، اسرائیلی وزیراعظم کی گرفتاری کا مطالبہ شرپسند عناصر کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی: ترجمان آزاد کشمیر پولیس قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی نشستیں بڑھانے کیلئے درخواست دائر ایران نے چین سے سیکڑوں فضائی دفاعی میزائل خریدنے کا معاہدہ کر لیا، رائٹرز کا دعویٰ روزگار کیلئے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام کیا جائے: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے انتظام پر صرف ایران اور عمان کا حق ہے: سینئر ایرانی عہدیدار عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 2 ڈالرز سے زائد اضافہ مون سون کے نئے سپیل کی انٹری، لاہور سمیت جڑواں شہروں میں بادل برس پڑے پنجاب بھر سے غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلا کا عمل جاری جاپان میں 7.1 شدت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہوگئی، متعدد لاپتہ پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر انتخابات کو مسترد کر دیا، بانی چیئرمین کے بنیادی و انسانی حقوق کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کردی سعودی عرب اور سینٹ کام کے عراق میں ایران نواز گروپوں کے ٹھکانوں پر حملے گزشتہ 15 روز کے دوران امریکا سے مذاکرات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، کاظم غریب آبادی

کھانے کا اہتمام نہیں ہوگا، معذرت قبول کریں، شادی کا دعوت نامہ وائرل

Web Desk

21 November 2025

روایتی پاکستانی شادیوں میں پر تکلف کھانوں اور بڑی تقاریب کا اہتمام ایک عام روایت ہے۔

تاہم ایک شادی کا کارڈ حال ہی میں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہا ہے جس نے اپنی غیر معمولی مگر نہایت بامقصد عبارت سے سب کی توجہ کھینچ لی ہے۔

کارڈ وائرل ہونے کی خاص وجہ اس پر کھانے سے متعلق لکھا نوٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’معذرت قبول کیجیئے، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے کھانے کا اہتمام نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘۔

اس فیصلے نے سوشل میڈیا صارفین کے دلوں کو جیت لیا۔ لوگوں نے اس عمل کو تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خوشی کے موقع پر دکھاوا ضروری نہیں، بلکہ اصل اہمیت نیت، برکت اور سادگی کی ہوتی ہے۔

صارفین نے اس خاندان کی سادگی کی تعریف کی اور کہا کہ اگر ایسی سوچ فروغ پائے تو شادیوں میں فضول خرچی کم ہو سکتی ہے اور مذہبی و معاشرتی توازن بہتر طریقے سے قائم ہوسکتا ہے