LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انٹرسٹی بس کرایوں میں اضافہ خوراک کی بلا تعطل فراہمی کے لیے امارات میں متبادل سپلائی چین فعال رجب بٹ نے اہلیہ ایمان فاطمہ سے شادی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ایران پر جتنا دباؤ بڑھے گا ردعمل بھی اتنا ہی سخت ہوگا: ایرانی صدر طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں، چین کا ایران پر حملے روکنے کا مطالبہ نیویارک:میئر ہاؤس کے باہر اسلام مخالف مظاہرے کے دوران مشتبہ آلات پھینکے گئے، 2افراد زیر حراست  جنگ کے بعد ایران کا نقشہ شاید ویسا نہ رہے: امریکی صدر ٹرمپ دبئی میں فضائی کارروائی کے دوران ملبہ گرنے سے جاں بحق ڈرائیور پاکستانی تھا، اماراتی حکام ایران پر کسی بھی بڑے حملے سے رجیم چینج ممکن نہیں، امریکی انٹیلی جنس رپورٹ پیشگی منصوبہ بندی نہ ہوتی تو پیٹرول 375 روپے فی لیٹر ہو چکا ہوتا :خواجہ آصف ایرانی حملوں سے پاکستان کو سعودی عرب کے معاملے میں مشکل صورتحال کا سامنا جزیرہ قشم پر امریکی حملے کے بعد ایران کا بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ تہران میں حملہ ، قدس فورس کے 16طیارے تباہ کردیے، اسرائیل کا دعویٰ آسان شکار نہیں، عوام کی حفاظت کریں گے، صدر یواے ای کا ایرانی حملوں پرردعمل ایران پر حملہ مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیاپر احسان اور خدمت ہے، امریکی صدر

کھانے کا اہتمام نہیں ہوگا، معذرت قبول کریں، شادی کا دعوت نامہ وائرل

Web Desk

21 November 2025

روایتی پاکستانی شادیوں میں پر تکلف کھانوں اور بڑی تقاریب کا اہتمام ایک عام روایت ہے۔

تاہم ایک شادی کا کارڈ حال ہی میں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہا ہے جس نے اپنی غیر معمولی مگر نہایت بامقصد عبارت سے سب کی توجہ کھینچ لی ہے۔

کارڈ وائرل ہونے کی خاص وجہ اس پر کھانے سے متعلق لکھا نوٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’معذرت قبول کیجیئے، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے کھانے کا اہتمام نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘۔

اس فیصلے نے سوشل میڈیا صارفین کے دلوں کو جیت لیا۔ لوگوں نے اس عمل کو تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خوشی کے موقع پر دکھاوا ضروری نہیں، بلکہ اصل اہمیت نیت، برکت اور سادگی کی ہوتی ہے۔

صارفین نے اس خاندان کی سادگی کی تعریف کی اور کہا کہ اگر ایسی سوچ فروغ پائے تو شادیوں میں فضول خرچی کم ہو سکتی ہے اور مذہبی و معاشرتی توازن بہتر طریقے سے قائم ہوسکتا ہے