LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور ایتھوپیا کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ فیلڈ مارشل کی تجویز پر ایران چار ملکی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے: اسماعیل بقائی سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے شیخوپورہ: موٹروے پولیس کے 436 افسران کی 15ویں بنیادی پاسنگ آؤٹ پریڈ تین ملکی ٹورنامنٹ: انگلینڈ کیخلاف کامیابی پر محسن نقوی کی قومی ہیروز کو مبارکباد ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لئے منصوبے پر کام شروع سعودی عرب اور یونان کا محفوظ بحری راستوں، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

2026کی پہلی قومی پولیو مہم کل سے شروع ہوگی، ایک کروڑ 78 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

Web Desk

1 February 2026

قومی انسداد پولیو پروگرام کے تحت سال 2026 کی پہلی قومی پولیو مہم کل سے شروع ہو رہی ہے، جس کے دوران ملک بھر میں ایک کروڑ 78 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

قومی پروگرام کے عہدیدار عدیل تصور کے مطابق یہ مہم پولیو وائرس کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں وائرس میں کمی کے واضح شواہد سامنے آئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پولیو مہمات مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔

مہم میں ملک بھر سے دو لاکھ سے زائد پولیو ورکرز حصہ لیں گے، لاہور میں 14 ہزار جبکہ راولپنڈی میں 8 ہزار ورکرز خدمات انجام دیں گے۔ راولپنڈی میں 10 لاکھ 57 ہزار بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

عدیل تصور کا کہنا تھا کہ ہائی رسک اضلاع اور نقل مکانی کرنے والی آبادی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے رفتار، تسلسل اور دباؤ برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں کیونکہ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے جو مستقل معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔