LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

2026کی پہلی قومی پولیو مہم کل سے شروع ہوگی، ایک کروڑ 78 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

Web Desk

1 February 2026

قومی انسداد پولیو پروگرام کے تحت سال 2026 کی پہلی قومی پولیو مہم کل سے شروع ہو رہی ہے، جس کے دوران ملک بھر میں ایک کروڑ 78 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

قومی پروگرام کے عہدیدار عدیل تصور کے مطابق یہ مہم پولیو وائرس کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں وائرس میں کمی کے واضح شواہد سامنے آئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پولیو مہمات مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔

مہم میں ملک بھر سے دو لاکھ سے زائد پولیو ورکرز حصہ لیں گے، لاہور میں 14 ہزار جبکہ راولپنڈی میں 8 ہزار ورکرز خدمات انجام دیں گے۔ راولپنڈی میں 10 لاکھ 57 ہزار بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

عدیل تصور کا کہنا تھا کہ ہائی رسک اضلاع اور نقل مکانی کرنے والی آبادی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے رفتار، تسلسل اور دباؤ برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں کیونکہ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے جو مستقل معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔