LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ن لیگ نئے صوبوں پر جلد فیصلہ کر کے اپنا مؤقف سامنے لائے گی: رانا ثنا اللہ حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان اسحاق ڈار القدس سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن روانہ آبنائے ہرمز معاہدے کی راہ ہموار، ایران کی عمان سے مثبت مذاکرات کی تصدیق وزیراعظم شہباز شریف 6 اور 7 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 7 ماہ میں 18 لاکھ سے زائد سمز بلاک روس میں کرپٹو کرنسی کے لیے جامع قانون منظور، صدر پوتن نے دستخط کر دیے فیلڈ مارشل کا این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ، مون سون آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ نیب کی 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 2.45 ٹریلین روپے ریکارڈ ریکوری آبنائے ہرمز پر مثبت پیش رفت، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ایران کو آخری موقع دے دیا، آبنائے ہرمز کل مکمل طور پر کھل جائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ آمدو رفت بحال، معاہدہ جلد طے پا جائے گا: اسکاٹ بیسنٹ کویت میں دھماکوں اور عمان کے قریب کارگو جہاز پر حملے کی اطلاعات روسی اور قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل تعلیمی انقلاب، 2 برس میں شرح خواندگی 35 فیصد بڑھانے کا ہدف

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کراچی میں ایڈز پھیلنے کے واقعے پر سخت ایکشن

Web Desk

20 February 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی کے ایک نجی اسپتال میں مبینہ طور پر غلط سرنجوں کے استعمال سے ایڈز (ایچ آئی وی) کے 84 کیسز رپورٹ ہونے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

وزیر صحت نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی جی ہیلتھ کو کراچی روانہ کر دیا گیا ہے اور تمام متاثرہ مریضوں کو تلاش کر کے ان کا علاج اور مفت ادویات کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی شعبے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور غلط کام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، تاہم جائز مسائل پر سب کی بات سنی جائے گی۔ نرسنگ کونسل سمیت دیگر انتظامی معاملات کو بھی طے شدہ طریقہ کار کے تحت حل کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں مصطفیٰ کمال نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اس حوالے سے معلومات کی فراہمی کی ذمہ داری وزیر اطلاعات کی ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ حساس نوعیت کے معاملات پر متضاد اطلاعات سے بچنے کے لیے خبر صرف ایک ہی مستند ذریعے سے آنی چاہیے