مفتاح اسماعیل کی جماعت اسلامی کے دھرنے کی حمایت، لیوی ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ
Web Desk
11 September 2026
عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور سابق وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے کے 26 ویں روز شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی معاشی اور ٹیکس پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے شرکاء 25 کروڑ عوام کے حقوق کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے واضح کیا کہ انہوں نے کراچی کی میئر شپ کے لیے حافظ نعیم الرحمن کو ووٹ دیا تھا اور ان کے مطالبات بالکل معقول ہیں، جنہیں سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت فی لیٹر پٹرول پر 85 روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز کے ذریعے عوام سے مجموعی طور پر 106.68 روپے اضافی وصول کر رہی ہے، جبکہ ملک میں 60 فیصد سے زائد موٹر سائیکل سوار پٹرول کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے آئی ایم ایف (IMF) کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ادارے نے اربوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں اور جہاز خریدنے کی اجازت تو دے دی، لیکن غریب اور نوکری پیشہ افراد کو ٹیکس میں ریلیف نہیں دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک پر 85 ہزار ارب روپے کا قرض ہے، اگر شرح سود میں ایک فیصد بھی اضافہ ہوتا ہے تو حکومتی اخراجات میں بھاری اضافہ ہوگا، تاہم حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے سود کی ادائیگی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے پیٹرولیم لیوی اور ظالمانہ ٹیکسز کو فوری ختم کرنے اور نظام کی تبدیلی کا مطالبات پیش کیا۔
متعلقہ عنوانات
ٹرمپ انتظامیہ پیر کو بڑے بینک کے خلاف پابندیاں عائد کرے گی، امریکی وزیر خزانہ
11 September 2026
واشنگٹن کے تمام اقدامات تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں ناکام رہے ہیں، باقر قالیباف
11 September 2026
آئی اے ای اے کی ایران کے خلاف قرارداد غیر قانونی اور سیاسی ہے، محسن رضائی
11 September 2026
بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی 78 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے
11 September 2026
کینیڈا کا یوکرین کیلئے 35 کروڑ ڈالر کے دفاعی امدادی پیکیج، میزائل فراہم کرنے کا اعلان
11 September 2026
وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کے خط کا جواب بھجوا دیا، آئین پر عملدرآمد کی یقین دہانی
11 September 2026
حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، انصار اللہ کا دعویٰ
11 September 2026
بحیرہ احمر اور باب المندب میں آمدورفت، تجارت معمول کے مطابق جاری ہے: ترجمان حوثی باغی
11 September 2026