LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ امریکی سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ اہم پیشرفت قرار ایران عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے، ٹرمپ امریکا سے آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے: کاظم غریب آبادی اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی

میجر شبیر شریف شہید کی بہادری کو سلام، 54واں یومِ شہادت عقیدت سے منایا جا رہا ہے

Web Desk

6 December 2025

1971 کی جنگ کے عظیم ہیرو میجر شبیر شریف شہید (نشانِ حیدر، ستارۂ جراّت) کا 54واں یومِ شہادت آج بھرپور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ پاک فوج کے اس جانباز افسر نے اپنی بےمثال بہادری اور جرأت سے تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں رقم کیا۔

گجرات کے گاؤں کنجاہ میں 28 اپریل 1943ء کو پیدا ہونے والے میجر شبیر شریف نے اپریل 1964ء میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا اور پاسنگ آؤٹ پریڈ میں سب سے بڑے فوجی اعزاز ’اعزازی شمشیر‘ سے نوازے گئے۔ وہ پاک فوج کے واحد افسر ہیں جنہیں نشانِ حیدر اور ستارۂ جرأت دونوں اعزازات ملے۔

میجر شبیر شریف 1970ء میں میجر کے رینک پر فائز ہوئے۔ 3 دسمبر 1971ء کو سلیمانکی ہیڈ ورکس کے سامنے دشمن کے مضبوط مورچوں پر قبضے کا حکم ملا تو وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ بارودی سرنگوں اور شدید فائرنگ کے باوجود سبونہ نہر عبور کرکے دشمن کے اہم مقام تک پہنچ گئے۔

اپنی شجاعت سے انہوں نے دشمن کی دفاعی لائن توڑ دی۔ اس کارروائی میں 43 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے، 38 جنگی قیدی بنے اور 4 بھارتی ٹینک تباہ کیے گئے۔
5 اور 6 دسمبر کی درمیانی شب انہوں نے دست بدست لڑائی میں دشمن افسر میجر نارائن سنگھ کو بھی ہلاک کیا۔

6 دسمبر کو بھارتی ٹینک کے گولے نے انہیں شہادت کے اعلیٰ رتبے پر فائز کر دیا۔ ان کی غیرمعمولی شجاعت پر انہیں ملک کے سب سے بڑے عسکری اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔

میجر شبیر شریف شہید کا لازوال پیغام “انسان کی زندگی باعزت اور موت باوقار ہونی چاہیے” آج بھی جوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔