LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بیرونی سرمایہ کاری لانے کا مشن، صوبائی وزیر چوہدری شافع کینیڈا پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی، فیصلے کیخلاف درخواست دوبارہ دائر کر رہے ہیں: رانا ثنا نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال

غیر قانونی حراست کا معاملہ: متعلقہ پولیس افسر کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

Web Desk

10 July 2026

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی جانب سے ایک شہری کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے کے معاملے پر اہم تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ڈی پی او اوکاڑہ کو متعلقہ پولیس افسر کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ تحریری حکم مقصودہ بی بی نامی خاتون کی درخواست پر جاری کیا گیا، جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ گلفام علی کو 27 جون 2026ء کو جیل سے رہائی کے فوراً بعد باہر سے سادہ لباس اہلکاروں نے دوبارہ حراست میں لے لیا تھا۔ اگرچہ سی سی ڈی انسپکٹر اختر علی نے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی کہ گلفام علی کو اوکاڑہ کے ایک مقدمے میں باقاعدہ گرفتار کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس رپورٹ میں واضح تضاد پایا۔ جسٹس امجد رفیق نے اپنے فیصلے میں سخت آبزرویشن دی کہ کسی شہری کو غیر قانونی حراست میں رکھنا اور پھر عدالت میں گمراہ کن رپورٹ جمع کروانا ایک قابلِ دست اندازی جرم ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ڈی پی او اوکاڑہ کو واقعے کے ذمہ دار پولیس افسر پر پرچہ درج کرنے اور عملدرآمد رپورٹ ہائیکورٹ میں پیش کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔