LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دشمن کی نئی غلطی کا منہ توڑ جواب دیں گے، ایرانی آرمی چیف سعودی عرب اور یمن کو باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول قبول نہیں: روبیو امریکا سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، امریکی حکام نائجیریا میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 32 افراد سوار تھے مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری نئی جنگ کی صورت میں خطے کے امریکی اتحادی بھی متاثر ہوں گے: ایران ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ منصوبے کی کامیابی، مریم نواز کو عالمی اعزاز سے نواز دیا گیا خیبر پختونخوا کی صورتحال، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مختلف آپشنز پر مشاورت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 6 اور 7 اکتوبر کو بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری پاکستان پولینڈ تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلنے کے خواہاں ہیں: وزیراعظم بانی پی ٹی آئی سے پاکستان کی خاطر بات چیت کرنی چاہیے: علامہ ناصر عباس ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی عملے کے ارکان بھی بحفاظت بازیاب تبدیلی گالیاں دینے سے نہیں، کچھ کر دکھانے سے آتی ہے: احسن اقبال جیٹ فیول کی قیمت میں 3 روز کے دوران 9 روپے سے زائد اضافہ افغانستان پر ماسکو فارمیٹ اجلاس، پاکستان کی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت

لاہور ہائیکورٹ کا 39 سال پرانے اراضی کیس پر فیصلہ، تکمیل کا دعویٰ مسترد

Web Desk

11 September 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے 39 سال پرانے اراضی کے ایک اہم تنازع کا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے 1987 میں طے پانے والے معاہدۂ اراضی کی تعمیل کا دعویٰ مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس مزمل اختر شبیر نے میاں انعام الٰہی اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی دوسری اپیل (Second Appeal) پر جاری کیا۔

کیس کے حقائق کے مطابق درخواست گزاروں نے 27 جولائی 1987 کو 199 کنال 9 مرلہ اراضی کی خرید و فروخت کا معاہدہ 10 لاکھ روپے کے عوض طے کیا تھا، جس میں سے 1 لاکھ روپے بطور بیعانہ ادا کیے گئے تھے۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ بقایا رقم کی ادائیگی کے بعد رجسٹری ہونا تھی، مگر فریقِ مخالف نے معاہدے کی پابندی نہیں کی۔

لاہور ہائیکورٹ نے قانونی نکات کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا کہ:

  • انکار اور قانونِ تحدیدِ مدت: معاہدے میں تکمیل کے لیے 3 ماہ کی مدت درج تھی مگر کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہیں تھی۔ اس صورتِ حال میں قانونِ تحدیدِ مدت (Limitation Act) کے آرٹیکل 113 کے تحت 3 سال کی قانونی مدت اس دن سے شروع ہوئی جب فریقِ مخالف نے معاہدے پر عمل درآمد سے انکار کیا۔

  • دعوے میں طویل تاخیر: درخواست گزار کے اپنے گواہ کے مطابق 15 ستمبر 1987 کو سیل ڈیڈ کا مسودہ پیش کیا گیا تھا جس پر ملک محمد اشرف نے اسی دن دستخط سے انکار کر دیا تھا۔ یہی انکار قانونی مدت کے آغاز کی بنیاد بنا، جس کی 3 سالہ معیاد 15 ستمبر 1990 کو ختم ہو چکی تھی، جبکہ دعویٰ 7 سال کی تاخیر سے دسمبر 1997 میں دائر کیا گیا۔

  • قانونی نوٹس کا اثر: 26 نومبر 1997 کو بھیجا گیا قانونی نوٹس کوئی نئی وجۂ دعویٰ (Cause of Action) پیدا نہیں کر سکتا، کیونکہ ایک بار قانونی معیاد شروع ہو جائے تو بعد کا کوئی واقعہ اسے روک یا دوبارہ شروع نہیں کر سکتا۔

عدالتِ عالیہ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ اپیل کنندگان اتنے طویل عرصے تک خاموش رہنے کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کر سکے۔ لہٰذا اپیل میں کوئی قانونی خامی نہ ہونے کی بنیاد پر اسے عدمِ میرٹ پر خارج کر دیا گیا۔