LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سینیٹ نے نیب ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا، چیئرمین کی مدت ملازمت اور اپیلوں میں اصلاحات شامل پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر تشویش کا اظہار آپریشن غضب للحق کے دوران قندھار میں 205 کور کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ، سکیورٹی ذرائع پاکستان کی تمام بندرگاہوں کے داخلے عارضی طور پر بند کرنے کا نوٹیفکیشن جعلی قرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی علاج کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا وزیراعظم سے جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، مشرق وسطی پر اعتماد میں لیا پنجاب حکومت کا “وزیراعلیٰ رحمت کارڈ” متعارف کرانے کا فیصلہ، بیواؤں کو ایک لاکھ روپے امداد دی جائے گی آدھا رمضان گزر گیا مگر کے پی حکومت نے پیکج کی تقسیم شروع نہیں کی، عظمیٰ بخاری سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ کیخلاف اپیل سننے کا اختیار نہیں: وفاقی آئینی عدالت ایران کے امریکا اور اسرائیل پر تازہ حملے، 10 ڈرونز تباہ، 500 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ قطری حکام کی امریکی سفارتخانے کے قریب رہنے والوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت بھارت میں سیاسی ہلچل: ایرانی جہاز پر حملے کے بعد مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات آبنائے ہرمز پر تناؤ اور پاسدارانِ انقلاب کا چیلنج “ایران پر حملہ نہ کرتے تو ان کے پاس ایٹم بم ہوتا”، صدر ٹرمپ کا تہران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی منڈی میں تیل 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتا ہے: ماہرین

فرانسیسی شہری کا انوکھا کارنامہ، 1000 لیپ ٹاپ بیٹریوں سے 8 سال تک گھر کو بجلی کی فراہمی

Web Desk

19 November 2025

پیرس: ایک باصلاحیت فرانسیسی شہری نے سولر پینلز اور ایک ہزار سے زائد استعمال شدہ لیپ ٹاپ بیٹریوں کی مدد سے اپنے پورے گھر کو مسلسل 8 برس تک بجلی فراہم کرکے سب کو حیران کر دیا۔ یہ منفرد نظام نہ صرف خود کفالت کی مثال ہے بلکہ الیکٹرانک فضلے کی ری سائیکلنگ کا بھی زبردست نمونہ بن گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ منصوبہ 2016 میں ایک انٹرنیٹ فورم پر شیئر کیے گئے آئیڈیا سے شروع ہوا، جہاں “گلوبکس” نامی صارف نے سالوں تک پرانی لیپ ٹاپ بیٹریاں جمع کیں اور انہیں سولر پینلز کے ساتھ جوڑ کر ایک مکمل پاور سسٹم تیار کیا۔ اس منفرد تجربے کو عالمی سطح پر خوب پذیرائی ملی۔

گلوبکس نے نومبر 2016 میں بتایا تھا کہ وہ پہلے ہی اپنی چھت پر نصب 1.4 کلو واٹ سولر پینلز اور 24 وولٹ 460 اے ایچ فورک لفٹ بیٹری کے ذریعے بجلی پیدا کر رہے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے لیپ ٹاپ بیٹریاں جمع کرنا شروع کیں جن کی تعداد ابتدا میں 650 تک پہنچ گئی۔

وقت کے ساتھ انہوں نے 1000 سے زائد سیکنڈ ہینڈ لیپ ٹاپ بیٹریاں یکجا کیں اور انہیں گھر سے 50 میٹر دور ایک چھوٹے گودام میں نصب کیا۔ مختلف حالت کی بیٹریوں کے باعث ڈسچارج ریٹ برابر نہ تھا، جس پر انہوں نے تمام بیٹریاں خود کھول کر نئی ترتیب میں خود ساختہ ریکس میں فٹ کیں۔

رپورٹ کے مطابق گلوبکس کا یہ متاثرکن سیٹ اپ گزشتہ 8 برس سے بغیر کسی سیل فیل ہونے کے مسلسل کام کر رہا ہے۔ سالوں کے دوران انہوں نے مزید سولر پینلز شامل کیے، جس سے توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت 7 کلو واٹ آور سے بڑھ کر 56 کلو واٹ آور ہو گئی۔

یہ موثر اسٹوریج سسٹم نہ صرف سستی توانائی کی شاندار مثال ہے بلکہ ای ویسٹ کم کرنے کی ایک بہترین عملی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔