LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل ٹرمپ کی شکست پر رابطے بحال؛ ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے ٹیلیفون پر گفتگو ٹرمپ اور نیتن یاہو کی الیکشن میں شکست پر ایران میں جشن؛ پتلے جلادیے گئے حوثیوں کا جنگ بندی کیلیے سعودیہ سے 51 ارب ڈالر ہرجانہ اور حکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ امریکا اور اسرائیل کا ایران پر مختصر اور شدید حملوں کا منصوبہ تیار ایران کا جوہری پروگرام پر ثالثوں کی تجاویز کا جائزہ، قطر کی سفارتی کوششیں رنگ لانے لگیں: نیویارک ٹائمز پیٹ ہیگستھ کا مواخذے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے اور عہدے پر برقرار رہنے کے عزم برطانیہ کے 2 بڑے ہوائی اڈوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں، یورپ بھر میں 12 پروازوں کا رخ موڑ دیاگیا پیٹرول اور ڈیزل سستا ہونےکے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں کمی کا اعلان بجلی صارفین پر 23 ارب 33 کروڑ روپےکا اضافی بوجھ ڈالنےکی تیاری، نیپرا میں درخواست دائر ڈیموکریٹک پارٹی کا صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا احتساب، اختیارات محدود کرنے کا اعلان جے ڈی وینس کا ایران جنگ ختم کرنے اور اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ یورپ کی 25 پروازوں کو بموں سے اڑانے کی دھمکی، متعدد کی ہنگامی لینڈنگ ظہران ممدانی کا ڈیموکریٹس سے انتخابی کامیابی عوامی ریلیف میں بدلنے کا مطالبہ امریکا میں صدارتی انتخابات کی تیاریاں، درجنوں رہنماؤں کا میدان میں آنے کا امکان

بلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل

Web Desk

6 November 2026

سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان اور یہاں کے وکلاء سے ان کا گہرا تعلق ہمیشہ قائم رہے گا، تاہم صوبے کی موجودہ بگڑتی صورتحال دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔

کوئٹہ میں بلوچستان بار کونسل کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے پروقار الوداعی عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ بطور جج بلا خوف و خطر انصاف کی فراہمی ان کی آئینی ذمہ داری اور فرض تھا، جسے انہوں نے پوری ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ بدقسمتی سے صوبے میں ایسے نازک حالات کیوں پیدا ہوئے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں امن قائم ہوگا تو ہی کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں گی اور عوام اپنے مسائل کے قانونی حل کے لیے عدالتوں کا رخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ماضی کا پرامن اور خوشگوار ماحول واپس لانے کے لیے تمام متعلقہ حلقوں اور اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر سنجیدگی سے حکمتِ عملی بنانی ہوگی۔ الوداعی تقریب میں سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز سمیت وکلاء اور قانون دانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی