LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا علاقائی و عالمی صورتحال کے تناظر میں اہم اجلاس آج طلب شرح سود برقرار رہے گی یا بڑھے گی؟ نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج ہوگا وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن کمیٹی تشکیل دے دی تیل کی بڑھتی قیمتیں عالمی امن کے لیے چھوٹی قربانی ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 9700 پوائنٹس کی کمی، ٹریڈنگ عارضی طور پر روک دی گئی ایرانی حملے جاری رہے تو نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا: سعودی عرب مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اسرائیل پر میزائل حملے، لبنان میں جھڑپیں، کئی شہری شہید ایرانی حملوں میں 13 اسرائیلی ہلاک، 1,929 زخمی: اعداد و شمار جاری پاک افغان کشیدگی :چین متحرک، نمائندہ کابل روانہ ایران اور آذربائیجان کے صدور کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ، ڈرون واقعے پر گفتگو ایران کی مسلح افواج نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا عہد کر لیا امریکا نے سعودی عرب میں سفارتکاروں کو فوری طور پر واپس بلانے کا حکم دے دیا خیبرپختونخوا حکومت نے توانائی بچت کی وفاقی تجاویز پر اتفاق کر لیا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کردیا گیا

جونا گڑھ پر بھارتی قبضے کو 78 برس مکمل، ہندو انتہا پسندی اور جبر کی کہانی آج بھی زندہ

Web Desk

9 November 2025

ریاستِ جونا گڑھ پر بھارت کے غیر قانونی اور غاصبانہ قبضے کو 78 سال گزر گئے، مگر ظلم و جبر کی وہ داستان آج بھی تاریخ کے اوراق میں تازہ ہے۔

1947 میں آزادی کے فوراً بعد، جونا گڑھ اسٹیٹ کونسل نے پاکستان سے الحاق کی باقاعدہ منظوری دی تھی، تاہم بھارتی رہنما سردار ولبھ بھائی پٹیل نے نواب آف جونا گڑھ پر فیصلہ واپس لینے کے لیے شدید دباؤ ڈالا۔ ناکامی کے بعد بھارت نے فوجی طاقت کے بل پر ریاست پر قبضہ کر لیا، جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی تھی۔

تاریخی شواہد کے مطابق، بھارتی افواج نے جونا گڑھ میں مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھائے، قتل و غارت، خواتین کی بے حرمتی اور املاک کی تباہی جیسے سنگین جرائم کیے۔ بعد ازاں بھارت نے اپنے قبضے کو جائز قرار دینے کے لیے ایک جعلی ریفرنڈم بھی کروایا، جسے آج تک عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا۔

ماہرین تاریخ کا کہنا ہے کہ جونا گڑھ پر بھارت کا قبضہ دراصل اُس توسیع پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت نئی دہلی نے کئی دیگر ریاستوں پر بھی زبردستی تسلط قائم کیا۔
آج بھی بھارت میں اقلیتوں پر مظالم، مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اسی جابرانہ سوچ کا تسلسل ہیں جو 78 سال قبل جونا گڑھ میں شروع ہوئی تھی۔