LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے شیخوپورہ: موٹروے پولیس کے 436 افسران کی 15ویں بنیادی پاسنگ آؤٹ پریڈ تین ملکی ٹورنامنٹ: انگلینڈ کیخلاف کامیابی پر محسن نقوی کی قومی ہیروز کو مبارکباد ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لئے منصوبے پر کام شروع سعودی عرب اور یونان کا محفوظ بحری راستوں، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق بائیں بازو کے رہنما لوئس سلوا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب فرانس میں احتجاج کرنے والی تنظیموں نے 5 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا لانا نصیبہ یو این سیکرٹری جنرل بننے کی کوشش میں گریٹر اسرائیل منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہیں، قالیباف اسرائیلی الیکشن: مقبوضہ مغربی کنارے کی تمام زمینی گزر گاہیں بند، نقل و حرکت پر پابندی ایران اور اتحادی اسرائیلی انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے حملے کر سکتے ہیں، نیتن یاہو سری لنکا کی بین الاقوامی پانیوں میں امدادی کارروائی، 40 ایرانی ملاحوں کو بچا لیا

سفارتکاری کیلئے تیار، جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں: اسماعیل بقائی

Web Desk

26 October 2026

ایران نے امریکا پر مذاکرات کے دوران یکطرفہ اور غیر منطقی مطالبات مسلط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ سفارت کاری کے لیے ہمیشہ تیار ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی کامل صلاحیت رکھتا ہے۔

جرمن نشریاتی ادارے ‘اے آر ڈی’ (ARD) کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی عوام کو امریکا پر بالکل اعتماد نہیں، اسی لیے ملکی دفاع کو مضبوط رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی مذاکراتی میز نہیں چھوڑی اور نہ ہی سفارتی راستے بند کیے ہیں، اب بھی ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ تاہم امریکا سفارت کاری کی آڑ میں ایران سے “مکمل سرنڈر” کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے کوئی بھی خوددار ایرانی قبول نہیں کرے گا۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل کے دوران ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایران پر کیے گئے دو حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ واشنگٹن پرامن حل میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اسماعیل بقائی نے یورپی یونین کے نقشِ قدم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ نے عالمی برادری کی توقعات کے برعکس آزادانہ کردار کے بجائے امریکی پالیسیوں کی پیروی کو ترجیح دی اور ایٹمی معاملے پر اپنا تعمیری کردار ترک کر دیا۔