LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش

ایرانی جوہری تنصیبات میں افزودہ یورینیم کے ذخائر اب بھی موجود ہیں: رافیل گروسی

Web Desk

3 July 2026

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ حملوں کے باوجود ایران کی جوہری تنصیبات میں افزودہ یورینیم (Enriched Uranium) کے ذخائر اب بھی موجود ہیں۔

آئی اے ای اے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایجنسی کو حملوں سے پہلے مذکورہ تنصیبات سے یورینیم کی کسی دوسری جگہ منتقلی کے کوئی نمایاں یا ٹھوس شواہد نہیں ملے تھے۔ تاہم، اب افزودہ یورینیم کی موجودگی اور اس کی اصل مقدار کی حتمی تصدیق کے لیے حملوں سے متاثرہ تنصیبات کا براہِ راست معائنہ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

رافیل گروسی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایران کی بعض جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متاثرہ مقامات کے کئی اہم حصوں تک رسائی فی الحال ممکن نہیں رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی اے ای اے کی موجودہ تشخیصی رپورٹ ان معائنوں پر مبنی ہے جو حملوں سے قبل کیے گئے تھے، یا پھر اس کے لیے سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر کی مدد لی جا رہی ہے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ نے ایران اور متعلقہ قوتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ زمین پر اصل حقائق جاننے کے لیے بین الاقوامی معائنہ کاروں کی ٹیم کو فوری طور پر متاثرہ ایرانی جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ماہرین کی ٹیم وہاں جا کر مکمل جانچ پڑتال نہیں کر لیتی، تب تک یورینیم کے ذخائر کی موجودہ اور حقیقی صورتحال واضح نہیں ہو سکے گی۔