LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے رفقا کی فہرست جیل حکام کو ارسال پاکستان نیوی کی بحیرہ عرب میں بڑی کارروائیاں، 96 ملین ڈالر مالیت کی منشیات برآمد بیرسٹر گوہر کا حکومت سے غیر مشروط مذاکرات کا مطالبہ پاکستان اور جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے پر اتفاق مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا: رانا ثناء ایم ٹی آنر 25 کے مزید 3 پاکستانی کریو ارکان بھی وطن واپس روانہ سموگ اور فوگ کا خدشہ: بلدیاتی الیکشن اپریل 2027 میں کرانے کی تجویز ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر پاکستان کی سفارتی کامیابی، اقوام متحدہ میں پانی سے متعلق قرارداد منظور بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر مریم نواز سے عمانی وزیر کی ملاقات، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ منصوبے میں دلچسپی خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ

نئے صوبوں کے قیام پر سیاسی جماعتوں کا ڈائیلاگ لازمی، بلدیاتی نظام مضبوط کیا جائے: حمزہ شہباز

Web Desk

5 September 2026

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے حساس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان باقاعدہ ڈائیلاگ کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اس معاملے کا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

صحافتی تنظیم ‘پیما’ (PEMA) کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں ماضی میں بروقت اور بااختیار بلدیاتی انتخابات کروا لیتیں تو آج نئے صوبوں کے قیام کی نوبت ہی نہ آتی۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک کمزور بلدیاتی نظام عوام کے مسائل کا حل فراہم نہیں کر سکتا، لہٰذا آئین میں ضروری ترمیم کر کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات کے ساتھ ہی بلدیاتی الیکشن بھی کروانے کا پابند بنایا جانا چاہیے۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے بیوروکریسی کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی نے ہمیشہ حکومت اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض وزیراعظم یا وزیراعلیٰ آفس میں بیٹھ کر عوامی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے، بلکہ رہنماؤں کو عوام کے درمیان جانا پڑے گا، اور وہ خود عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن حد تک جائیں گے۔