LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
4 ارب کی عدم ریکوری، خریداریوں میں ڈھائی ارب کی بےضابطگیاں، آڈٹ رپورٹ جاری اقوام متحدہ میں پاکستان کا جنسی تشدد کے خاتمے کیلیے عالمی اقدامات کا مطالبہ سابق افغان کرکٹر شاپور زدران کا جسدِ خاکی بھارت سے کابل پہنچ گیا، ساتھی کرکٹرز اشکبار امریکا کی جانب سے پابندیوں میں چھوٹ ختم، ایران کا 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں پھنس گیا امریکا نے ایران پر حملے جوابی کارروائی میں کئے: سابق عہدیدار پینٹاگون امریکی صدر ایران کیخلاف حملوں کو محدود رکھنے کی کوشش کررہے ہیں: عالمی میڈیا امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی ایران کیساتھ دوبارہ جنگی کارروائیوں پر شدید تنقید چین کے بحرالکاہل میں بیلسٹک میزائل تجربے، امریکہ کا اظہارِ تشویش غیر ملکی فوج ایرانی ساحل پر اتری تو علاقہ ان کیلئے جہنم بنا دیں گے: ایرانی بحریہ خطےمیں کشیدگی کا ذمہ دار واشنگٹن ہے: علی اکبر ولایتی مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی آج 59 برسی منائی جارہی ہے بحری جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں ایران پر حملےکیے، نتائج سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ را ٹرمپ ریڈ کارڈ معطلی کا معاملہ، یورپی ارکانِ پارلیمنٹ کا سربراہ فیفا کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ اسرائیل کا عرب لیگ کے نئے سیکرٹری جنرل کو, رام اللہ کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملے، مزید 2 افراد جاں بحق ہوگئے

وفاقی حکومت نے پٹرولیم لیوی میں کمی اور ڈیزل پر لیوی بڑھا دی

Web Desk

13 June 2026

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے ڈھانچے کے تحت پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی، فریٹ مارجن اور دیگر ضمنی اخراجات میں اہم ردوبدل کر دیا ہے۔ وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن کے مطابق، پٹرول پر عائد پٹرولیم لیوی میں نمایاں کمی کی گئی ہے جبکہ ڈیزل کے استعمال پر ٹیکس کا بوجھ بڑھاتے ہوئے لیوی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف ایندھنوں پر پٹرولیم لیوی کی نئی اور پرانی شرح کی تفصیلی رپورٹ درج ذیل ہے:پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی (Petroleum Levy) میں ردو بدلپٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی میں ہونے والے فرق اور نئی قیمتوں کا موازنہ درج ذیل میز میں دیکھا جا سکتا ہے:ایندھن کی قسم (Fuel Type)سابقہ لیوی (فی لیٹر)نئی لیوی (فی لیٹر)نیٹ کمی / اضافہ (فی لیٹر)پٹرول (Petrol)116 روپے 08 پیسے106 روپے 74 پیسے9 روپے 34 پیسے (کمی)ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD)44 روپے 59 پیسے53 روپے 26 پیسے8 روپے 67 پیسے (اضافہ)فریٹ مارجن، ڈیلرز کمیشن اور ضمنی اخراجات کے نئے نرخنوٹیفکیشن میں ایندھن کی ترسیل کے اخراجات (Freight Margin) اور امپورٹ ڈیوٹیز میں بھی درج ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں:فریٹ مارجن (Inland Freight Margin): پٹرول کی سپلائی پر فی لیٹر فریٹ مارجن میں 4 روپے 45 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر فی لیٹر 2.01 روپے کی کمی کر دی گئی ہے۔ضمنی اخراجات اور ڈیوٹیز: پٹرول پر کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ضمنی اخراجات کی مد میں 9 روپے 30 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ اس کے برعکس ڈیزل پر ان اخراجات میں 9 روپے 57 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ڈیلرز مارجن (Dealers Margin): پٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز کا فی لیٹر منافع برقرار رکھا گیا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پٹرول دونوں پر ڈیلرز کا مارجن 8 روپے 64 پیسے فی لیٹر پر ہی برقرار رہے گا۔دیگر پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی صورتحالمٹی کا تیل اور فرنس آئل کی قیمتیں مستحکم:”حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کے علاوہ دیگر پٹرولیم مصنوعات اور صنعتی ایندھن پر عائد پٹرولیم لیوی کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور پرانی شرح کو برقرار رکھا گیا ہے”۔باقی مصنوعات کے مستقل ریٹس درج ذیل ہیں:ہائی اوکٹین (HOBC): لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی اوکٹین پر لیوی کی سب سے اعلٰی شرح یعنی 305 روپے 37 پیسے فی لیٹر برقرار ہے۔فرنس آئل (Furnace Oil): بجلی کے کارخانوں اور صنعتوں میں استعمال ہونے والے فرنس آئل پر لیوی کی شرح 77 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔مٹی کا تیل (Kerosene Oil): غریب طبقے اور دیہی علاقوں میں استعمال کے لیے مٹی کے تیل پر فی لیٹر لیوی 20 روپے 36 پیسے برقرار رکھی گئی ہے۔لائٹ ڈیزل آئل (LDO): صنعتوں اور ٹیوب ویلوں کے لیے استعمال ہونے والے لائٹ ڈیزل پر فی لیٹر لیوی 15 روپے 84 پیسے پر برقرار ہے۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرول پر لیوی کی کمی اور ڈیزل پر اس کے اضافے کا مقصد زرعی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے ٹیکس بیلنس کو برقرار رکھنا ہے، تاہم ڈیزل پر لیوی بڑھنے سے مال بردار گاڑیوں کے کرایوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔