LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے: شہباز شریف سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ پی سی بی اور الائیڈ بینک میں سکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلئے 10 کروڑ روپے کا معاہدہ امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا ماسکو میں گیس برآمد کرنیوالے ممالک کے آٹھویں سربراہی اجلاس کا اعلامیہ منظور جام کمال خان کا دوحہ میں پاکستانی مصنوعات کے ایکسپورٹ ڈسپلے سینٹر کا افتتاح مولانا فضل الرحمٰن کی راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کمانڈر کویت نیول فورس کی نیول ہیڈکوارٹرز آمد، نیول چیف سے ملاقات 9 مئی کیس: سہیل آفریدی سمیت پانچ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ملک بھر میں اسکولز ہاکی لیگ شروع کرنےکا فیصلہ ایبٹ آباد پبلک سکول کے مسائل حل کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، گورنر فیصل کریم الیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم: انتخابی شیڈول مانگ لیا گیا ایران کا قطر سے ثالثی کے تقاضوں پر عمل اور محتاط بیانات کا مطالبہ گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، ملک کسی جرنیل کی جاگیر نہیں:مولانا فضل الرحمان

فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال کی پابندی عائد

Web Desk

22 July 2026

فرانس کی پارلیمنٹ نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا قانون منظور کر لیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس قانون پر باضابطہ عمل درآمد جنوری 2027ء سے ہوگا، جس کے بعد کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس بنانا یا استعمال کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ اس قدم کے ساتھ فرانس بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے والا پہلا یورپی ملک بن جائے گا۔

منظور کیے گئے قانون کے تحت اب فرانس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے تمام صارفین کے لیے اپنی عمر کی تصدیق (Age Verification) کرنا لازمی ہوگا تاکہ کم عمر بچوں کی رسائی کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق یہ سخت فیصلہ سوشل میڈیا کے باعث بچوں کی ذہنی صحت، نیند اور ان کی نشوونما پر پڑنے والے شدید منفی اثرات کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ دوسری جانب فرانس کے اس اقدام کے بعد برطانیہ اور یورپی یونین کے دیگر ممالک بھی اپنے ہاں اسی قسم کی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔