سابق پی آئی اے سی ای او لین دین کا تنازع ، اسلام آباد ہائی کورٹ تفتیش پر سخت برہم
Web Desk
5 November 2025
سابق چیف ایگزیکٹو افسر پی آئی اے مشرف رسول اور وقاص احمد کے درمیان مبینہ لین دین کے تنازع کے سلسلے میں وقاص احمد کی طرف سے اسلام آباد میں درج مقدمات کو خارج کرنے کی درخواست کی سماعت ہوئی، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے پولیس تفتیشی افسران پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
سماعت کے دوران جسٹس کیانی نے پولیس کی تفتیشی کارکردگی کو نہ صرف غیر سنجیدہ قرار دیا بلکہ سخت کلمات میں تنقید بھی کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے،پولیس کا باعثِ شرم کردار ہے اور استفسار کیا کہ آپ لوگوں کو شرم بھی نہیں آئی کس بے ایمانی سے آپ نے تفتیش کی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے تفتیشی افسران سے متعدد سخت سوالات کیے، جن میں شامل تھےکیا آپ نے لاہور پولیس سے تفتیش کی؟ اور لاہور جانے کے لیے سرچ وارنٹ لیا تھا؟ متعلقہ تھانے میں انٹری کرائی تھی؟اسلام آباد پولیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ لاہور نہیں جا سکے۔
عدالت نے سی سی ٹی وی وڈیو کے حوالہ سے بھی استفسار کیا اور کہا کہ ویڈیو میں لاہور سے خواتین اور بچیوں کو اٹھائے جانے کے مناظر ہیں ایسے ہوتی ہے تفتیش؟جسٹس کیانی نے کڑی تنقید کی۔
مزید برہمی کے عالم میں جسٹس کیانی نے کہا۔آپ لوگوں کو ڈوب مرنا چاہیےاور تفتیشی افسر سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ تمہارے گھر سے عورتوں، بچیوں کو اٹھا لیں پھر کیا ہوگا؟ عدالت نے تفتیشی عمل کی شواہد کے ساتھ غیر مطابقت پر سخت نوٹس لیا۔
جسٹس کیانی نے یہ بھی استفسار کیا کہ کیا مدعی مشرف رسول کا بیان قلمبند کیا گیا؟ تفتیشی افسر کے جواب پر جسٹس نے کہاایک لفظ نہیں پتا، فائل نہیں پڑھی اور منہ اٹھا کر آ گئے ہیں۔ عدالت نے تفتیش کی کوتاہیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاکمال تفتیش کی ہے آپ لوگوں نے، آپ لوگوں کو معطل کیوں نہ کردوں؟
جسٹس محسن کیانی نے ریمارکس دیے کہ پانچ مقدمات درج کیے گئے ہیں اور ان سب کو جھوٹاقرار دیا، جبکہ تفتیشی اقدامات میں شواہد اور دستاویزات کی عدم موجودگی پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے یہ تاثر دیا کہ مقدمات کی پیروی کرنے والے بعض افسران ممکنہ طور پر کسی اثر و رسوخ کے تحت کام کر رہے ہیں کوئی جواب نہیں تم لوگوں کے پاس کیونکہ ایک بڑے آدمی نے تم سب لوگوں کو ساتھ ملا لیا
سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن سمیت متعلقہ افسران کے خلاف مقدمات درج کرنے یا ان کے خلاف کارروائی کے امکانات پر بھی اطمینان ظاہر کیا اور استدعا کی کہ مناسب قانونی کارروائی کی جائے۔ عدالت نے تفتیشی ریکارڈ کا تفصیلی معائنہ کرنے اور آئندہ سماعت پر افسران کی پیشی کے احکامات جاری کرنے کا عندیہ دیا
سماعت مزید کارروائی کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ عدالت نے تفتیشی افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ پیشی پر مکمل شواہد اور دستاویزات کے ساتھ پیش ہوں تاکہ عدالت حقائق کی روشنی میں مناسب فیصلہ کر سکے
متعلقہ عنوانات
نئے صوبوں، صدارتی اور بلدیاتی نظام میں زیادہ دیر نہیں: چودھری جعفر اقبال
20 September 2026
اٹھارہویں ترمیم کے بعد چاروں صوبے 4 آزاد ریاستیں بن گئیں: مصطفیٰ کمال
20 September 2026
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی جماعت اسلامی کے مارچ کی حمایت
20 September 2026
آبنائے ہرمز، باب المندب بند ہونے سے تیل مہنگا ہوا، مہنگائی سے پوری دنیا پریشان ہے: رانا ثناء اللہ
20 September 2026
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھیں، عوام کی تکلیف کا احساس ہے: علی پرویز ملک
20 September 2026
18ویں ترمیم کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں :خالد مقبول صدیقی
20 September 2026
سکیورٹی پہلے، ملک محفوظ ہوگا تو ترقی بھی ہو گی: سپیکر پنجاب اسمبلی
20 September 2026
اسلام آباد پہنچنے سے پہلے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ میں بریک تھرو کا امکان
20 September 2026