LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر میڈیا رپورٹنگ کو غلط قرار دے دیا ازبکستان کی سینٹرم ایئر کا پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع، پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی اسحاق ڈار کا نومنتخب او آئی سی سیکریٹری جنرل سے رابطہ، عہدے سنبھالنے پر مبارکباد سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی: مراد شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کردیا شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے ہلاکتوں پر اظہار تعزیت مہمند ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے اہم قومی منصوبہ ہے: چیئرمین واپڈا یومِ دفاع پر سائبر حملوں کا خدشہ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی اہم ہدایات ٹرمپ اور اماراتی صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکی حملوں میں شہید شہریوں کے خون کا حساب لیا جائے گا: پاسداران انقلاب نیتن یاہو کا ایرانی حکومت گرانے کیلئے کام جاری رکھنے کا اعلان پاکستان کی روسی مشرق بعید کے ساتھ تخلیقی معیشت میں تعاون بڑھانے کی تجویز مکہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے: ملک احمد خان سرکاری ہسپتالوں کی سہولیات پر اپوزیشن کی تحریک التوائے کار کثرت رائے سے مسترد

وزیرِ خزانہ کی امریکی سیکرٹری کامرس سے ملاقات، اقتصادی امور پر گفتگو

Web Desk

21 February 2026

واشنگٹن: وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکی سیکرٹری کامرس ہاورڈ لٹنک سے ملاقات کی، جس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم کو بڑھانا تھا۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، اس ملاقات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)، مائننگ (معدنیات) اور توانائی کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ امریکی حکام نے ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقعوں پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے معاشی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ بڑے منصوبوں کے لیے مستقبل میں بھی قریبی روابط برقرار رکھے جائیں گے۔

ملاقات میں 31 مارچ 2026 کو منعقد ہونے والے “یو ایس پاکستان ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فورم” کی اہمیت کو سراہا گیا۔ اس فورم میں دونوں ممالک کی ممتاز کمپنیوں اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی شرکت متوقع ہے، جس سے دوطرفہ تجارت کو نئی جہت ملنے کی امید ہے۔