LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا وزیر مذہبی امور کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، حج سے متعلق امور پر گفتگو وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا سوات ایکسپریس وے پر وین کی بس کو ٹکر، 11 افراد جاں بحق، 7 زخمی امریکہ ایران معاہدے پر غیر یقینی صورتحال، عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ایرانی و عمانی سفارتکاروں کا رابطہ، سفارتی رابطوں کی اہمیت کا اعادہ

فرحان سعید نے تشدد پسند کرداروں کو مسترد کرنے کی وجہ بتادی

Web Desk

30 November 2025

فرحان سعید نے حال ہی میں مہوش اعجاز کے یوٹیوب پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر، کرداروں کے انتخاب اور ڈراما انڈسٹری کے موجودہ رجحانات پر کھل کر گفتگو کی۔

اداکار نے بتایا کہ ماضی میں انہیں ایسے ڈراموں کی پیشکش کی جاتی تھی جن میں مرکزی ہیرو تشدد کرتا ہے یا زبردستی محبت کا اظہار کرتا ہے، تاہم وہ ایسے کردار فوراً ٹھکرا دیتے تھے۔ان کے مطابق اسی وجہ سے اب انہیں اس نوعیت کے ڈراموں کی پیشکش نہیں کی جاتی، بلکہ زیادہ تر مثبت اور اچھے ہیرو والے کردار ہی انہیں آفر کیے جاتے ہیں، جنہیں وہ ترجیح دیتے ہیں۔اداکار نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کا یہ نظریہ غلط ہے کہ ڈراما تعلیم یا تربیت دینے کے لیے بنتا ہے، کیونکہ ان کے مطابق ڈرامے کا بنیادی مقصد تفریح ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ناظرین کو بھی ڈرامے کو تفریح ہی سمجھ کر دیکھنا چاہیے اور اگر کسی کو کوئی ڈراما پسند نہ آئے تو وہ دوسرا ڈراما دیکھ لے، کیونکہ دیکھنے پر کوئی زور زبردستی نہیں ہوتی۔تاہم، انہوں نے اعتراف کیا کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کیونکہ ڈراموں سے لوگ بہت کچھ سیکھتے ہیں اور ان کے باعث معاشرتی رویے بھی تبدیل ہوتے ہیں، اسی لیے ان کے خیال میں ڈرامے بناتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے۔گفتگو کے دوران انہوں نے ایک حالیہ ڈرامے کی مثال بھی دی، جس میں ہیرو ہیروئن کے سر پر اپنی گردن رکھ دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایسا دکھایا جا سکتا ہے، لیکن اس کردار کو بعد میں سزا بھی ملنی چاہیے، نہ کہ ایک پرانے ڈرامے کی طرح ہیرو کے ایک اچھے کام پر ہیروئن فوراً دل دے بیٹھے