LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران سے مذاکرات کے لیے میری ٹیم کل اسلام آباد پہنچ رہی ہے، ٹرمپ کا بڑا اعلان امیدہے ایران امریکاجنگ بندی میں توسیع ہوجائے گی، ترک وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرخارجہ کا رابطہ، خطے میں امن کیلیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق وٹکوف اور جیرڈکشنرمذاکرات کےلیے اسلام آباد جارہے ہیں، ٹرمپ اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی سخت، میٹرو بس اور ٹرانسپورٹ بند اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات، میریٹ ہوٹل سرکاری تحویل میں، شہر میں سخت بندشیں سعودی ایئرلائنز کی پشاور پروازیں بحال، جدہ سے پہلی پرواز پہنچ گئی ایران امریکا مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں متوقع ہیں: عرب میڈیا پاکستان میں ایچ آئی وی عام آبادی تک پہنچ گیا، متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار ہوگئی امریکا سے مذاکرات میں اب بھی بڑا فاصلہ موجود ہے، ایرانی اسپیکر واشنگٹن:ایران صورتحال پر اہم اجلاس، صدر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر گفتگو خلیج میں لنگرانداز جہاز  حرکت نہ کریں ، پاسداران انقلاب کی سخت وارننگ ڈیزل سے بھرا پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے داخل ہوکر واپس لوٹ گیا ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد میں دکانیں اور بس اڈے بند ہونے کی خبروں کی تردید کردی فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل

فرحان سعید نے تشدد پسند کرداروں کو مسترد کرنے کی وجہ بتادی

Web Desk

30 November 2025

فرحان سعید نے حال ہی میں مہوش اعجاز کے یوٹیوب پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر، کرداروں کے انتخاب اور ڈراما انڈسٹری کے موجودہ رجحانات پر کھل کر گفتگو کی۔

اداکار نے بتایا کہ ماضی میں انہیں ایسے ڈراموں کی پیشکش کی جاتی تھی جن میں مرکزی ہیرو تشدد کرتا ہے یا زبردستی محبت کا اظہار کرتا ہے، تاہم وہ ایسے کردار فوراً ٹھکرا دیتے تھے۔ان کے مطابق اسی وجہ سے اب انہیں اس نوعیت کے ڈراموں کی پیشکش نہیں کی جاتی، بلکہ زیادہ تر مثبت اور اچھے ہیرو والے کردار ہی انہیں آفر کیے جاتے ہیں، جنہیں وہ ترجیح دیتے ہیں۔اداکار نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کا یہ نظریہ غلط ہے کہ ڈراما تعلیم یا تربیت دینے کے لیے بنتا ہے، کیونکہ ان کے مطابق ڈرامے کا بنیادی مقصد تفریح ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ناظرین کو بھی ڈرامے کو تفریح ہی سمجھ کر دیکھنا چاہیے اور اگر کسی کو کوئی ڈراما پسند نہ آئے تو وہ دوسرا ڈراما دیکھ لے، کیونکہ دیکھنے پر کوئی زور زبردستی نہیں ہوتی۔تاہم، انہوں نے اعتراف کیا کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کیونکہ ڈراموں سے لوگ بہت کچھ سیکھتے ہیں اور ان کے باعث معاشرتی رویے بھی تبدیل ہوتے ہیں، اسی لیے ان کے خیال میں ڈرامے بناتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے۔گفتگو کے دوران انہوں نے ایک حالیہ ڈرامے کی مثال بھی دی، جس میں ہیرو ہیروئن کے سر پر اپنی گردن رکھ دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایسا دکھایا جا سکتا ہے، لیکن اس کردار کو بعد میں سزا بھی ملنی چاہیے، نہ کہ ایک پرانے ڈرامے کی طرح ہیرو کے ایک اچھے کام پر ہیروئن فوراً دل دے بیٹھے