LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

فرحان سعید نے تشدد پسند کرداروں کو مسترد کرنے کی وجہ بتادی

Web Desk

30 November 2025

فرحان سعید نے حال ہی میں مہوش اعجاز کے یوٹیوب پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر، کرداروں کے انتخاب اور ڈراما انڈسٹری کے موجودہ رجحانات پر کھل کر گفتگو کی۔

اداکار نے بتایا کہ ماضی میں انہیں ایسے ڈراموں کی پیشکش کی جاتی تھی جن میں مرکزی ہیرو تشدد کرتا ہے یا زبردستی محبت کا اظہار کرتا ہے، تاہم وہ ایسے کردار فوراً ٹھکرا دیتے تھے۔ان کے مطابق اسی وجہ سے اب انہیں اس نوعیت کے ڈراموں کی پیشکش نہیں کی جاتی، بلکہ زیادہ تر مثبت اور اچھے ہیرو والے کردار ہی انہیں آفر کیے جاتے ہیں، جنہیں وہ ترجیح دیتے ہیں۔اداکار نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کا یہ نظریہ غلط ہے کہ ڈراما تعلیم یا تربیت دینے کے لیے بنتا ہے، کیونکہ ان کے مطابق ڈرامے کا بنیادی مقصد تفریح ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ناظرین کو بھی ڈرامے کو تفریح ہی سمجھ کر دیکھنا چاہیے اور اگر کسی کو کوئی ڈراما پسند نہ آئے تو وہ دوسرا ڈراما دیکھ لے، کیونکہ دیکھنے پر کوئی زور زبردستی نہیں ہوتی۔تاہم، انہوں نے اعتراف کیا کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کیونکہ ڈراموں سے لوگ بہت کچھ سیکھتے ہیں اور ان کے باعث معاشرتی رویے بھی تبدیل ہوتے ہیں، اسی لیے ان کے خیال میں ڈرامے بناتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے۔گفتگو کے دوران انہوں نے ایک حالیہ ڈرامے کی مثال بھی دی، جس میں ہیرو ہیروئن کے سر پر اپنی گردن رکھ دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایسا دکھایا جا سکتا ہے، لیکن اس کردار کو بعد میں سزا بھی ملنی چاہیے، نہ کہ ایک پرانے ڈرامے کی طرح ہیرو کے ایک اچھے کام پر ہیروئن فوراً دل دے بیٹھے