LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

برصغیر کے عظیم پہلوان غلام حسین المعروف گاما کی 66ویں برسی

Web Desk

23 May 2026

برصغیر کے عظیم اور لیجنڈری پہلوان، غلام حسین المعروف ’گاما پہلوان‘ کی آج 66 ویں برسی منائی جا رہی ہے، جنہیں اپنی غیر معمولی جسمانی طاقت، بے مثال تکنیک اور طویل ناقابلِ شکست ریکارڈ کی بدولت دنیا بھر میں ایک منفرد اور تاریخی مقام حاصل رہا۔ 22 مئی 1878 کو برطانوی ہند کے شہر امرتسر میں پیدا ہونے والے گاما پہلوان نے بچپن ہی سے روایتی کُشتی (دیسی قیدو) کے فن میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوانا شروع کر دیا تھا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے بہت کم عمری میں برصغیر کے چوٹی کے پہلوانوں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ ان کے کیریئر کا سب سے یادگار لمحہ 1910 میں اس وقت آیا جب انہوں نے لندن میں منعقدہ ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپیئن شپ میں نامور عالمی پہلوان اسٹینسلوس زیبیسکو (Stanislaus Zbyszko) کو چیت کر کے دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھائی اور ’رستمِ زماں‘ کا باوقار خطاب اپنے نام کیا۔

گاما پہلوان کُشتی کی تاریخ کے ان چند گنے چنے کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے نصف صدی سے زائد (52 سالہ) طویل اور متحرک کیریئر میں کبھی بھی کسی حریف سے شکست کا سامنا نہیں کیا۔ ان کے داؤ پیچ اور ناقابلِ تسخیر جسمانی قوت کو آج بھی اسپورٹس ہسٹری کا ایک سنہری اور ناقابلِ فراموش باب مانا جاتا ہے۔ سنہ 1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے ہجرت کی اور مستقل طور پر لاہور منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام اپنے بھائی امام بخش پہلوان اور بھولو برادران کے ساتھ گزارے۔ رستمِ زماں گاما پہلوان 23 مئی 1960 کو لاہور میں خالقِ حقیقی سے جا ملے، تاہم روایتی کُشتی کی دنیا میں ان کی شاندار وراثت اور روایات آج بھی نسل در نسل نوجوان پہلوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔