LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ پنجاب میں لیب ٹاپ اور اسکالرشپ سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا: عظمیٰ بخاری دانش سکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش سکول کاافتتاح کردیا نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ

امریکی صدر اپنے سیاسی کیریئر میں مقبولیت کی کم ترین سطح پر آگئے

Web Desk

22 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت اپنے سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح 32 فیصد پر آ گئی ہے. ‘رائٹرز اور اپسوس’ (Reuters/Ipsos) کے چار روزہ تازہ ترین سروے کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران صدر ٹرمپ کی مقبولیت 35 فیصد سے گر کر 32 فیصد رہ گئی ہے. خود ان کی اپنی جماعت کے حامیوں میں بھی عدم اطمینان بڑھا ہے، جہاں ریپبلکن ووٹرز میں ان کی حمایت کی شرح 82 فیصد سے کم ہو کر 73 فیصد پر آ گئی ہے. سروے کے مطابق صرف 17 فیصد امریکیوں نے مہنگائی اور زندگی کے اخراجات پر قابو پانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کی حمایت کی ہے.

تجزیہ کاروں کے مطابق روزمرہ اخراجات اور افراطِ زر امریکی عوام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، جو آنے والے 3 نومبر کے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے نتائج پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور ایندھن (پٹرول و ڈیزل) کی قیمتوں میں زبردست اضافے نے عوام اور بالخصوص ریپبلکن ووٹرز کی تشویش میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث پہلی بار 51 فیصد ریپبلکنز نے مہنگائی سے نمٹنے کے صدارتی طریقہ کار کو مسترد کر دیا ہے۔ جنوری 2025 میں حلف برداری کے وقت 47 فیصد مقبولیت رکھنے والے صدر ٹرمپ کا یہ حالیہ گراف کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کی معمولی اکثریت کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔