LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز میں جہازوں کیلئے نئی پابندی، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ مقرر مسلسل اصلاحات اور مضبوط ذخائرپاکستان کے معاشی منظر نامےکو سہارا دے رہے ہیں: اے ڈی بی او آئی سی مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر سرفہرست رکھے: اسحاق ڈار پاکستان اور سعودی عرب: بھائی چارے سے بالاتر ایک اتحاد، 96 واں سعودی قومی دن پی ٹی آئی لانگ مارچ: پنجاب حکومت کی فوج و رینجرز کی تعیناتی کی درخواست پنجاب بھر میں انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے سالانہ امتحانات کے نتائج جاری ایران نے اپنا مؤقف اور شرائط امریکا تک پہنچا دیں: اسماعیل بقائی سعودی قومی دن پر صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کی شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کو مبارکباد اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا علم اور اخلاق جارح دشمن کا ہاتھ کاٹ سکتے ہیں، ایرانی سپریم لیڈر نیویارک میں امریکی و ایرانی وفود کی ملاقات امریکا کے اصرار پر ہوئی، ایرانی میڈیا بحیرہ احمر کے راستے پاکستان کیلئے سعودی خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع وائٹ ہاؤس نے ’ٹرمپ ٹی وی‘ کے نام سے 24 گھنٹے چلنے والا چینل لانچ کر دیا ایران کے پڑوسی ممالک کا کشیدگی کے خاتمے کیلئے سفارتکاری عمل کی بحالی پر زور آئی ایم ایف کا یوکرین کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے فنڈنگ کا فیصلہ

امریکی صدر اپنے سیاسی کیریئر میں مقبولیت کی کم ترین سطح پر آگئے

Web Desk

22 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت اپنے سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح 32 فیصد پر آ گئی ہے. ‘رائٹرز اور اپسوس’ (Reuters/Ipsos) کے چار روزہ تازہ ترین سروے کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران صدر ٹرمپ کی مقبولیت 35 فیصد سے گر کر 32 فیصد رہ گئی ہے. خود ان کی اپنی جماعت کے حامیوں میں بھی عدم اطمینان بڑھا ہے، جہاں ریپبلکن ووٹرز میں ان کی حمایت کی شرح 82 فیصد سے کم ہو کر 73 فیصد پر آ گئی ہے. سروے کے مطابق صرف 17 فیصد امریکیوں نے مہنگائی اور زندگی کے اخراجات پر قابو پانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کی حمایت کی ہے.

تجزیہ کاروں کے مطابق روزمرہ اخراجات اور افراطِ زر امریکی عوام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، جو آنے والے 3 نومبر کے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے نتائج پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور ایندھن (پٹرول و ڈیزل) کی قیمتوں میں زبردست اضافے نے عوام اور بالخصوص ریپبلکن ووٹرز کی تشویش میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث پہلی بار 51 فیصد ریپبلکنز نے مہنگائی سے نمٹنے کے صدارتی طریقہ کار کو مسترد کر دیا ہے۔ جنوری 2025 میں حلف برداری کے وقت 47 فیصد مقبولیت رکھنے والے صدر ٹرمپ کا یہ حالیہ گراف کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کی معمولی اکثریت کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔