LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: 21 نشستوں پر پولنگ کل، 12 لاکھ سے زائد ووٹرز شامل پیٹرول پر لیوی بھتہ ٹیکس، فارم 45 کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے,حافظ نعیم الرحمٰن امریکا اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ایران کامیاب رہا: باقر قالیباف وزیراعلیٰ پنجاب کی امریکی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کو سرمایہ کاری کی دعوت کشمیر کی حکومت و مستقبل کے فیصلے کشمیری عوام خود کریں: بلاول بھٹو زرداری سورینج کان حادثہ: 45 گھنٹے بعد ریسکیو آپریشن مکمل، 34 لاشیں نکال لی گئیں ایف بی آر نے جولائی میں ہدف سے 40 ارب روپے زائد ٹیکس وصول کر لیا بھارت نے مسلسل گیارہویں مرتبہ سلال ڈیم سے پانی چھوڑ دیا، فلڈ الرٹ جاری عمانی ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر نامعلوم سمت سے حملہ گرمیوں کی تعطیلات ختم، کراچی سمیت سندھ بھر میں سکول اور کالج کھل گئے سانحہ پٹن کو 35 سال مکمل، یکم اگست 1990 کشمیری تاریخ کا سیاہ باب قرار ایران جنگ میں امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی ہوئی ہے: امریکی میڈیا عراقچی کا برطانیہ کو انتباہ، ایران پر حملے میں تعاون ناقابلِ قبول قرار ایران کا امریکی اسرائیلی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا اعلان پینٹا گون کا ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار

ایلون مسک کا چاند پر اے آئی سیٹلائیٹس فیکٹری قائم کرنے کا منصوبہ

Web Desk

12 February 2026

ٹیسلا، اسپیس ایکس اور دیگر کمپنیوں کے مالک اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے چاند پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سیٹلائیٹس فیکٹری قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مسک نے یہ بات اپنی اے آئی کمپنی ایکس اے آئی کے ملازمین سے میٹنگ کے دوران کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ فیکٹری میں ایک بہت بڑی غلیل جیسی ڈیوائس بھی رکھنا چاہتے ہیں جو سیٹلائیٹس کو خلا میں لانچ کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔

ایکس اے آئی کی جانب سے ابھی تک اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا۔

ایلون مسک نے پہلے بھی خلا میں فیکٹریوں کے قیام کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ اے آئی میں حالیہ پیشرفت بڑے ڈیٹا سینٹرز پر انحصار کرتی ہے، جن کے لیے بہت زیادہ توانائی اور کولنگ ٹیکنالوجیز درکار ہیں۔

مسک کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر اے آئی کے لیے بجلی کی طلب کو پورا کرنا ممکن نہیں، لہٰذا طویل المعیاد بنیادوں پر خلا میں اے آئی مراکز کا قیام لازمی ہوگا۔ انہوں نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ 36 ماہ یا اس سے پہلے اے آئی مراکز کو خلا میں پہنچا دیا جائے گا۔

اگر یہ مشن کامیاب ہوا تو چاند پر انسانی بستی کے قیام کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے اور مستقبل میں مریخ پر انسانی شہر کا قیام بھی آسان ہو جائے گا۔