LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت ایران کا متحدہ عرب امارات کا ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ غیر قانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار، 76 کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور، ملکی سیاست پر گفتگو عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان

مصری خاتون نے 83 برس کی عمر میں پی ایچ ڈی کرکے سب کو حیران کردیا

Web Desk

10 July 2026

مصر سے تعلق رکھنے والی 83 سالہ خاتون اَمل اسماعیل عبدو نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ علم حاصل کرنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ بین الاقوامی اور عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اَمل اسماعیل کو 5 جولائی کو مصر کی معروف منصورہ یونیورسٹی کے فیکلٹی آف آرٹس کے شعبۂ سوشیالوجی کی جانب سے ان کے شاندار تحقیقی مقالے (Thesis) کی بنیاد پر پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کی ڈگری عطا کی گئی ہے، جسے تعلیمی حلقوں میں ایک غیر معمولی اور تاریخی کارنامہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اَمل اسماعیل عبدو کا کہنا تھا کہ 83 برس کی عمر میں پی ایچ ڈی مکمل کرنا ان تمام لوگوں کے لیے ایک بڑا پیغام ہے جو بڑھتی عمر کو خوابوں کی تکمیل میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عمر صرف ایک عدد (Number) ہے، اصل اہمیت انسان کے پختہ ارادے، خود اعتمادی اور مسلسل محنت کی ہوتی ہے؛ جب تک انسان میں سیکھنے اور سوچنے کی صلاحیت برقرار ہے، اسے منزل کے حصول کے لیے کوشش جاری رکھنی چاہیے۔