LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بہت جلد میں آبنائے ہرمز کو امریکا کا علاقہ قرار دینے کا اعلان کروں گا : صدر ٹرمپ کویت میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی طیاروں کی بمباری امریکا کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے: سابق امریکی کمانڈر ملک کا اتحاد سب سے اہم، یہ ٹوٹ گیا تو طاقت بھی بکھر جائیگی: ایرانی صدر آبنائے ہرمز کھولنے یا بند کرنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے: کاظم غریب آبادی قطر اور پاکستان کیساتھ پیغامات کا تبادلہ کررہے ہیں: ایران کی تصدیق بھارتی یوم آزادی: دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منائیں گے میر رضا کے والدین اور شہریوں کا احتجاج، طارق روڈ پر دھرنا، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ ایران کا ہرمزگان میں ایک اور ایم کیو نائن ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن، ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد یوم آزادی 2026ء: صدر مملکت نے 355 شخصیات کیلئے سول ایوارڈز کی منظوری دے دی پاکستان عالمی سیاست میں ابھرتی ہوئی ’ہِنج پاور‘ کے طور پر سامنے آ رہا ہے: فنانشل ٹائمز دریائے سندھ میں 5 افراد ڈوب گئے، سرچ آپریشن شروع محسن نقوی کی بیرسٹر گوہر خان کی رہائش گاہ آمد، والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت مصر نے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا پاکستان اور فرانس کا کثیرالجہتی امور پر تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

مصر نے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا

Web Desk

14 August 2026

مصر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والے تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ میں باقاعدہ شمولیت کے امکانات پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ مصر کے ان تینوں ممالک کے ساتھ انتہائی گہرے اور خصوصی تعلقات قائم ہیں، جو صرف سیاسی حد تک محدود نہیں بلکہ متعدد شعبوں پر محیط ہیں۔

مصری وزیرِ خارجہ نے وضاحت کی کہ قاہرہ شروع ہی سے اس مشترکہ دفاعی پئکٹ کے تمام پہلوؤں سے مکمل طور پر آراستہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے کا مصری ریاستی اداروں اور قانونی و سیکیورٹی ماہرین کی سطح پر جامع جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔ بدر عبدالعاطی کے مطابق، دفاعی معاہدوں اور ان سے وابستہ مستقبل کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا مصر کے آئینی و قانونی تقاضوں کے عین مطابق جائزہ لینا ناگزیر عمل ہے۔