LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی ایران نے فرانس کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے خبردار کر دیا آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں، دوبارہ کھولنا ترجیح ہے: ترک صدر ایران نے امریکی فوجیوں کی تدفین کیلئے جگہ مختص کر دی، 5 ہزار قبروں کی گنجائش ہوگی حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد یمن کی المخا بندرگاہ نے آپریشن معطل کر دیا قطر نے ایرانی طیاروں کے 3 پائلٹس کی گرفتاری کے دعوؤں کی تردید کر دی ایران کو اپنے 3 پائلٹس قطر میں قید ہونے کا شبہ، ریڈ کراس سے مدد کی اپیل

کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کھائی میں جا گری، 40 افراد جاں بحق

Web Desk

3 July 2026

ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیانی سرحدی علاقے دانا سر میں ایک خوفناک اور انتہائی افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں ایک تیز رفتار مسافر بس گہری کھائی میں گرنے کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق، بدقسمت مسافر بس کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی کہ دانا سر کے مقام پر موڑ کاٹتے ہوئے بے قابو ہو کر کھائی میں جا گری۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے تصدیق کی ہے کہ حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 40 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 8 شدید زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والی بس میں اس کے اپنے مسافروں کے علاوہ راستے میں خراب ہونے والی ایک دوسری بس کے مسافروں کو بھی سوار کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے بس اوور لوڈ تھی۔

ڈپٹی کمشنر شیرانی ولی کاکڑ کے مطابق، حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقہ انتہائی دشوار گزار اور پہاڑی ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تاہم اس کے باوجود ریسکیو اہلکار کھائی سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ انتظامیہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ دوسری جانب، محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بلوچستان کے تمام قریبی ہسپتالوں میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو بلا تاخیر طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ژوب شیرانی شاہراہ پر پیش آنے والے اس المناک بس حادثے پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی ہے۔ صدرِ مملکت نے متعلقہ تمام اداروں اور ہسپتال انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ حادثے کے تمام زخمیوں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔