LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کو ایک رات میں ختم کیاجاسکتاہے، وہ منگل کی رات بھی ہوسکتی ہے، ٹرمپ کی دھمکی پنجاب، کے پی، بلوچستان، اسلام آباد، کشمیر، جی بی میں مارکیٹس رات 8بجے بندکرنے کافیصلہ بوشہرایٹمی پلانٹ پر حملے ایران اور خطے کےلیے خطرناک ہیں، عالمی جوہری توانائی ایجنسی ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، صدر یورپی کونسل حالات بہترہوتے ہی پیٹرول سستا کردیں گے، حکومت کی اتحادی جماعتوں کو یقین دہانی آپریشن وعدہ صادق 4 کی 98 ویں لہر، امریکی و اسرائیلی تنصیبات پر ایران کے مزید حملے مہنگے پیٹرول نے ہرفرد کوہلادیا،مولانا فضل الرحمان کاردعمل، جمعے کو احتجاج کا اعلان انفرااسٹرکچرپرحملوں کا فیصلہ کن اوربھرپورجواب دیں گے، ایرانی وزیرخارجہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کی تجویز مسترد کردی جنگ بندی کیلیےامریکی منصوبہ قابل قبول نہیں، ایران کا اعلان، ثالثوں کی کوششوں کےجواب میں اپنا مسودہ تیارکرلیا بچت کیلئے ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا: وزیراعظم روس اور سعودی عرب کے درمیان ویزا فری معاہدہ، 11 مئی سے نافذ العمل پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کے فروغ کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط حافظ نعیم الرحمن کا میئر کراچی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا حکم میری گورنر شپ کا ایک ایک منٹ پنجاب کے لوگوں کیلئے ہے:گورنر پنجاب

بچپن کی ایک پرانی تصویر سے 33 سال بعد گمشدہ بھائی کو تلاش کرنیوالی خاتون

Web Desk

4 April 2026

وسطی چین سے تعلق رکھنے والی ایک ہمت والی خاتون نے اپنی زندگی کے 33 برس جدوجہد اور تلاش میں گزارنے کے بعد بالآخر بچپن کی ایک تصویر کے ذریعے اپنے گمشدہ چھوٹے بھائی کو تلاش کر لیا۔

بکھرتا ہوا خاندان اور المناک جدائی: صوبہ ہوبی (Hubei) کے علاقے شنتاؤ (Xiantao) سے تعلق رکھنے والی 44 سالہ لی لین کی زندگی بچپن میں ہی بکھر گئی تھی۔ والدہ کا کینسر سے انتقال اور والد کے ذہنی توازن کھو کر لاپتہ ہو جانے کے بعد 11 سالہ لی لین اور ان کا 7 سالہ بھائی لی شین کباڑ خانے میں رہنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ایک بارشی دن، ٹرک کے پچھلے حصے میں سوئے ہوئے یہ دونوں بہن بھائی ایک دوسرے شہر جا پہنچے، جہاں بھوک اور بے بسی کے دوران ایک معمر خاتون نے لی شین کو کھانے کا لالچ دے کر اپنی بہن سے جدا کر دیا۔

ظلم، پچھتاوا اور طویل تلاش: لی لین نے بتایا کہ وہ پوری زندگی اس پچھتاوے کے ساتھ جیتی رہیں کہ ان کا بھائی ان سے چھین لیا گیا۔ دوسری جانب، لی شین کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک تاریک کمرے میں بند رکھا گیا، تاہم وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا اور بھیک مانگ کر گزارا کرنے کے بعد جنوبی چین کے صوبے گوانگ ڈونگ پہنچا، جہاں ایک خاندان نے اسے گود لے لیا۔

لی لین نے بھائی کی تلاش میں اینٹیں لگائیں، برتن دھوئے اور کارخانوں میں کام کیا، جبکہ تلاش پر تقریباً 10 لاکھ یوآن خرچ کیے۔ ان کے پاس بھائی کی ایک پرانی تصویر کے علاوہ کچھ نہ تھا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

ٹیکنالوجی نے کرشمہ کر دکھایا: رواں سال اس کہانی میں اس وقت اہم موڑ آیا جب صوبہ جیانگشی کے ایک پولیس اہلکار نے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی (Facial Recognition) کا استعمال کرتے ہوئے گوانگ ڈونگ میں مقیم ‘ہان’ نامی شخص کی شناخت لی شین کے طور پر کی۔ ڈی این اے ٹیسٹ نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کر دی۔

جذباتی ملاپ: گزشتہ 23 مارچ کو جیانگشی کے پولیس اسٹیشن میں دونوں بہن بھائی 33 سال بعد ایک دوسرے کے گلے لگ کر زار و قطار رو پڑے۔ اگلے دن لی لین اپنے بھائی کو آبائی قصبے واپس لے گئیں جہاں اہل علاقہ نے آتشبازی اور کیک کے ساتھ ان کا شاندار استقبال کیا۔ لی شین کا کہنا تھا کہ “میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ میری ایک بڑی بہن ہے اور میں نے اسے ڈھونڈنے کی امید کبھی نہیں چھوڑی تھی۔”