LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈیمو کریٹس کا ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کا وسیع منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ امریکا کی ایران کو امداد فراہمی کرنیوالی کینیڈا میں قائم 8 مالیاتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد امریکا نے میکسیکو کو بلیک ہاک فوجی ہیلی کاپٹرز فروخت کرنے کی منظوری دیدی عراق کا امریکی فوج کو اپنی سرزمین ہمسایہ ممالک کیخلاف حملوں کیلئے دینے سے انکار نو منتخب امریکی مسلم سینیٹر نے ایران کیخلاف جنگ کو غلط فیصلہ قرار دے دیا حوثی ملیشیا جارحیت سے باز نہ آئی، سعودیہ پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے روس یوکرین کے توانائی مراکز پر نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی پوپ لیو 12 روزہ دورے پر یوراگوئے پہنچ گئے روسی وفد کی امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ سے ملاقات خوش آئند ہے، کریملن سپین کے جزائر کینری میں تارکینِ وطن کی آمد میں ریکارڈ اضافہ شارجہ بک فیئر میں پاکستان پویلین کا افتتاح، سفیر شفقت علی خان کی شرکت پاکستان کی حوثی ملیشیا کے سعودیہ پر حملوں کی شدید مذمت، مکمل یکجہتی کا اظہار ترکیہ کی پارلیمنٹ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی پاکستان، برطانیہ کا انسداد دہشتگردی، سائبر کرائم، امیگریشن میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ابوظہبی میں امریکا اور یوکرین کیساتھ مذاکرات سے قبل پوتن کی سلامتی کونسل سے اہم مشاورت

بھٹو پھانسی ریفرنس: جسٹس محمد علی مظہر کا تفصیلی نوٹ جاری

Web Desk

1 February 2026

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے اپنی اضافی رائے میں ایک حل طلب سوال اٹھایا ہے کہ عدالت کی جانب سے توبہ کے اصول سے متعلق سوال آخر کیوں فریم کیا گیا۔

جسٹس محمد علی مظہر کے مطابق یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر منصفانہ اور جانبدار ٹرائل پر آخر کس نے یا کس کے لیے توبہ کرنی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ مرحوم ارواح توبہ کے مخاطب تھیں جنہوں نے ہائی کورٹ میں یہ مقدمہ سنا، یا وہ ججز جو اپیل اور نظرِثانی کی سماعت کرنے والے تھے۔

اضافی رائے میں مزید سوال اٹھایا گیا کہ آیا وہ بینچ توبہ کا مخاطب تھا جس نے اس سوال کو قابلِ سماعت قرار دے کر فریم کیا، یا پھر وہ بینچ ارکان جنہوں نے ریفرنس دائر ہونے کے کئی برس بعد اپنی رائے دی۔

جسٹس محمد علی مظہر کے مطابق اگرچہ یہ رائے واضح الفاظ میں ندامت کا اظہار نہیں کرتی، تاہم اس میں کسی حد تک پشیمانی کا پہلو ضرور جھلکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اضافی رائے میں منصفانہ ٹرائل اور ڈیو پروسیس کو یقینی بنانے میں ناکامی پر توبہ کے اعتراف کا مفہوم بھی نمایاں ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے اپنی اضافی رائے کا اختتام مرزا غالب کے اشعار پر کیا:
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

انہوں نے واضح کیا کہ صدارتی ریفرنس کے سوال نمبر 4 پر اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا اور یہ سوال بدستور غیر طے شدہ ہے۔