بھٹو پھانسی ریفرنس: جسٹس محمد علی مظہر کا تفصیلی نوٹ جاری
Web Desk
1 February 2026
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے اپنی اضافی رائے میں ایک حل طلب سوال اٹھایا ہے کہ عدالت کی جانب سے توبہ کے اصول سے متعلق سوال آخر کیوں فریم کیا گیا۔
جسٹس محمد علی مظہر کے مطابق یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر منصفانہ اور جانبدار ٹرائل پر آخر کس نے یا کس کے لیے توبہ کرنی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ مرحوم ارواح توبہ کے مخاطب تھیں جنہوں نے ہائی کورٹ میں یہ مقدمہ سنا، یا وہ ججز جو اپیل اور نظرِثانی کی سماعت کرنے والے تھے۔
اضافی رائے میں مزید سوال اٹھایا گیا کہ آیا وہ بینچ توبہ کا مخاطب تھا جس نے اس سوال کو قابلِ سماعت قرار دے کر فریم کیا، یا پھر وہ بینچ ارکان جنہوں نے ریفرنس دائر ہونے کے کئی برس بعد اپنی رائے دی۔
جسٹس محمد علی مظہر کے مطابق اگرچہ یہ رائے واضح الفاظ میں ندامت کا اظہار نہیں کرتی، تاہم اس میں کسی حد تک پشیمانی کا پہلو ضرور جھلکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اضافی رائے میں منصفانہ ٹرائل اور ڈیو پروسیس کو یقینی بنانے میں ناکامی پر توبہ کے اعتراف کا مفہوم بھی نمایاں ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے اپنی اضافی رائے کا اختتام مرزا غالب کے اشعار پر کیا:
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
انہوں نے واضح کیا کہ صدارتی ریفرنس کے سوال نمبر 4 پر اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا اور یہ سوال بدستور غیر طے شدہ ہے۔
متعلقہ عنوانات
ڈیمو کریٹس کا ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کا وسیع منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ
7 November 2026
امریکا کی ایران کو امداد فراہمی کرنیوالی کینیڈا میں قائم 8 مالیاتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد
7 November 2026
امریکا نے میکسیکو کو بلیک ہاک فوجی ہیلی کاپٹرز فروخت کرنے کی منظوری دیدی
7 November 2026
عراق کا امریکی فوج کو اپنی سرزمین ہمسایہ ممالک کیخلاف حملوں کیلئے دینے سے انکار
7 November 2026
نو منتخب امریکی مسلم سینیٹر نے ایران کیخلاف جنگ کو غلط فیصلہ قرار دے دیا
7 November 2026
حوثی ملیشیا جارحیت سے باز نہ آئی، سعودیہ پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے
7 November 2026
روس یوکرین کے توانائی مراکز پر نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی
7 November 2026
پوپ لیو 12 روزہ دورے پر یوراگوئے پہنچ گئے
7 November 2026