LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سورینج کان حادثہ: 45 گھنٹے بعد ریسکیو آپریشن مکمل، 34 لاشیں نکال لی گئیں ایف بی آر نے جولائی میں ہدف سے 40 ارب روپے زائد ٹیکس وصول کر لیا بھارت نے مسلسل گیارہویں مرتبہ سلال ڈیم سے پانی چھوڑ دیا، فلڈ الرٹ جاری عمانی ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر نامعلوم سمت سے حملہ گرمیوں کی تعطیلات ختم، کراچی سمیت سندھ بھر میں سکول اور کالج کھل گئے سانحہ پٹن کو 35 سال مکمل، یکم اگست 1990 کشمیری تاریخ کا سیاہ باب قرار ایران جنگ میں امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی ہوئی ہے: امریکی میڈیا عراقچی کا برطانیہ کو انتباہ، ایران پر حملے میں تعاون ناقابلِ قبول قرار ایران کا امریکی اسرائیلی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا اعلان پینٹا گون کا ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار امریکا ایران جنگ سے عالمی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا: اقوام متحدہ براڈ پیک حادثہ، 8 کوہ پیماؤں کی لاشیں مل گئیں، 2 تاحال لاپتہ، تلاش جاری ایران پر بھرپور فوجی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں: ٹرمپ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران پر تازہ حملوں کا حکم دے دیا، وال سٹریٹ جرنل کیلیفورنیا میں امریکی ایف-35 بی جنگی طیارہ حادثے کا شکار، پائلٹ محفوظ

بنگلادیش انتخابات: بی این پی اور جماعت اسلامی اتحاد میں تگڑا مقابلہ متوقع

Web Desk

9 February 2026

بنگلادیش میں 12 فروری کو ہونے والے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے سیاسی درجہ حرارت بلند ہوگیا ہے، ایک تازہ عوامی سروے میں بی این پی اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان سخت اور کانٹے دار مقابلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق سروے میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہی میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل انتخابی اتحاد کو 43.9 فیصد حمایت مل سکتی ہے۔

یہ سروے ملک بھر کے 63 ہزار 115 ووٹرز سے کیا گیا، جن میں 36 ہزار 634 مرد اور 26 ہزار 981 خواتین شامل تھیں۔ سروے کے مطابق 92 فیصد افراد نے ووٹ ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ 4.4 فیصد نے ووٹ نہ دینے اور 2.5 فیصد نے تاحال فیصلہ نہ کرنے کا کہا۔

اگرچہ مجموعی ووٹوں میں بی این پی اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے، تاہم نشستوں کے اندازے کے مطابق جماعتِ اسلامی کی قیادت میں اتحاد بعض اہم حلقوں میں سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔ سروے کے مطابق جماعتِ اسلامی اتحاد کو 105 حلقوں میں واضح برتری مل سکتی ہے جبکہ بی این پی اتحاد کو 101 نشستوں پر یقینی سبقت حاصل ہونے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ 75 حلقوں میں سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جبکہ 19 حلقوں میں دیگر جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کی 300 نشستوں میں سے 151 پر کامیاب ہونے والی جماعت حکومت سازی کرسکے گی۔