LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعلیٰ مریم نواز کا حنا جاوید قتل کیس پر اہم بیان سامنے آگیا لاہور میں شہری کے نام پر 2354 گاڑیاں رجسٹرڈ ہونے کا حیران کن انکشاف افغان طالبان ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کریں: پاکستان وزیراعظم سے لاہور چیمبر آف کامرس کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد کی ملاقات جج پر مبینہ رشوت کا الزام: لاہور بار کا وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف ’پیکا ایکٹ‘ تحت مقدمہ درج کرانے کا اعلان پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت پائیداری میں اہم پیش رفت کر رہی ہے: برطانوی ہائی کمشنر اسحاق ڈار کی ایس سی او اجلاس کیلئے تمام ضروری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت آصفہ بھٹو کی یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر میں یومِ اقوامِ متحدہ کی تقریب میں شرکت فرانس میں مزدوروں کے اعلان کے بعد دوبارہ مظاہرے شروع، 135 گرفتار پی ٹی آئی میں اختلافات، بیرسٹر گوہر نے واضح ہدایات جاری کردیں پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کل پاکستان پہنچیں گی وزیراعظم کا دسمبر کے پہلے ہفتے میں دورۂ روس متوقع: ذرائع آئی ٹی کے شعبے میں 40 ارب ڈالر کے مواقع موجود ہیں: حافظ نعیم الرحمان پاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقوی زلمے خلیل زاد کا پاکستان پر افغانوں کو طالبان کیخلاف استعمال کرنے کا الزام، فیکٹ چیک جاری

موسمیاتی تبدیلیاں برفانی چیتے کیلئے بھی خطرات بڑھا رہی ہیں: عطا تارڑ

Web Desk

23 October 2026

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ برفانی چیتا پاکستان کے قومی فخر اور حیاتیاتی تنوع کی اہم علامت ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں اور غیر ذمہ دارانہ انسانی سرگرمیوں کے باعث اس نایاب جنگلی حیات کا وجود خطرے میں ہے۔

برفانی چیتے کے تحفظ کے عالمی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں برفانی چیتوں کی موجودہ تعداد 200 سے 300 کے درمیان رہ گئی ہے، جنہیں غیر قانونی شکار اور قدرتی مسکن کی تباہی جیسے شدید چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے جس میں WWF، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے نمائندے شامل ہوں گے۔

عطاء تارڑ نے سیاحت کو ماحول دوست بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سکردو اور گلگت جانے والی پروازوں میں سیاحوں کے لیے معلوماتی بروشرز رکھے جائیں گے تاکہ وہ شمالی علاقوں کے قدرتی ماحول، مقامی ثقافت اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق آگاہی حاصل کر سکیں۔