LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی ایوان نمائندگان میں قومی دفاعی اختیارات سے متعلق بل کثرت رائے سے منظور یورپ جارحیت کی پیروی کی بجائے سفارتکاری میں قائدانہ کردار ادا کرے، کاظم غریب آبادی یمنی حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کی تیاریاں مکمل کر لیں ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، عراقچی پیپلزپارٹی نے سعد رفیق کا بیان غیر ذمہ دارانہ، قومی یکجہتی کیخلاف قرار دیدیا امریکا نے کوئی غلطی کی تو نتائج عالمی معیشت کو بھی متاثر کریں گے، علی اکبر ولایتی دشمن ایرانی میزائلوں کی تیاری کے مراکز سے لاعلم ہے: بریگیڈیئر جنرل شکارچی حماس کا عوامی تکالیف ختم ہونے تک غزہ میں کام جاری رکھنے کا اعلان ترکیہ کے صوبہ موغلا کے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی، وسیع رقبہ متاثر مشرق وسطیٰ میں کارروائیاں: بلغاریہ نے امریکی فوج کو فضائی اڈا استعمال کرنیکی اجازت دیدی ایرانی حملوں میں ہلاک مزید 4 امریکی فوجیوں کی میتیں وطن پہنچ گئیں آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی مزید سخت، سیکڑوں جہازوں کا راستہ تبدیل ’سب کچھ یا پھر کچھ بھی نہیں‘، موجودہ جنگ کا اصول واضح ہے: باقر قالیباف ایران اور امریکا دونوں جانب سے ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار جاری پاکستان اور مصر میں دو طرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

امریکا نے کوئی غلطی کی تو نتائج عالمی معیشت کو بھی متاثر کریں گے، علی اکبر ولایتی

Web Desk

22 July 2026

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے امریکہ کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے کسی قسم کی عسکری غلطی کی تو اس کے سنگین نتائج صرف جنگی یا فوجی میدان تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی بین الاقوامی منڈیوں کو بھی شدید متاثر کریں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے اہم بیان میں علی اکبر ولایتی نے واضح کیا کہ ایران اب ایک بالکل نئے مرحلے کی “مزاحمتی حکمتِ عملی” (Resistance Strategy) میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوچنا یا اندازہ لگانا کہ ایران پر کم قیمت یا معمولی نقصان کے ساتھ کوئی بھی حملہ کیا جا سکتا ہے، امریکی حکام کا ایک انتہائی غلط اور بھیانک اندازہ ہو گا۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر کا مزید کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس اور امریکی انتظامیہ کو یہ اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کو مسلسل دھمکیاں دینے اور خطے میں اپنے مقامی اتحادیوں کو متحرک کرنے سے امریکہ کو ہرگز سلامتی یا استحکام حاصل نہیں ہو گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن کی غلط پالیسیوں اور عسکری غلطیوں کے برے اثرات خطے سے نکل کر پوری دنیا تک پھیل جائیں گے۔