LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیٹرولیم ڈیلرز کی حکومت کو 26 مارچ تک ڈیڈ لائن، مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر میں پمپ بند کرنے کی دھمکی ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، روس فیلڈ مارشل کی جنگی لباس میں سعودی ولی عہد سے ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار لکی مروت میں دھماکا، ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار شہید اسرائیل پر تازہ میزائل حملوں میں درجنوں افراد زخمی، متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو انخلا کی ہدایت پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے: عظمیٰ بخاری جمعة الوداع کے اجتماعات، یوم القدس کی ریلیاں، سکیورٹی ہائی الرٹ ایران کے اسرائیل پر نئے میزائل و ڈرون حملے، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے بڑھ گئیں مشرقِ وسطیٰ کیلئے پاکستان سے پروازوں کا آپریشن بتدریج بحال مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری ختم کی جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ سعودی عرب نے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والا ڈرون تباہ کر دیا امریکی ایندھن بردار طیارہ عراق میں گر کر تباہ، 6 افراد سوار تھے یوم القدس اور متوقع جمعۃ الوداع کے موقع پر سندھ میں آج سرکاری تعطیل ہوگی دبئی حکومت نے عیدالفطر کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کردیا

گوگل کے سی ای او کا اے آئی میں بڑھتی سرمایہ کاری پر گہری تشویش کا اظہار

Web Desk

22 November 2025

الفابیٹ انکارپوریٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی نے مصنوعی ذہانت (AI) میں تیزی سے بڑھتی سرمایہ کاری پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پچائی نے کہا کہ موجودہ صورتحال واضح طور پر سرمایہ کاری کی زیادتی کی جانب بڑھ رہی ہے، اور اگر AI کا معاشی ببل پھٹ گیا تو کوئی بھی کمپنی محفوظ نہیں رہے گی۔ انہوں نے موجودہ دور کا موازنہ انٹرنیٹ کے ابتدائی برسوں سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ڈاٹ کام دور میں غیر پائیدار سرمایہ کاری کے باوجود بنیادی ٹیکنالوجی نے خود کو انقلابی ثابت کیا، ویسے ہی AI میں بھی حقیقی جدت اور غیر حقیقی توقعات اکٹھے موجود ہیں۔

پچائی نے مزید کہا کہ آج کوئی انٹرنیٹ کی اہمیت پر سوال نہیں اٹھاتا، اور وہ سمجھتے ہیں کہ AI بھی بالآخر اپنی افادیت ثابت کرے گا۔ موجودہ AI بوم میں قیاسی رویہ بھی شامل ہے جو ڈاٹ کام دور میں دیکھا گیا تھا۔ وہ بڑھتی ہوئی کمپنی ویلیوایشنز، AI چِپس اور انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کو ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق AI پر مرکوز کمپنیوں کی مالیت کھربوں ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، جبکہ حقیقی آمدنی اور عملی نتائج اس رفتار سے ہم آہنگ نہیں۔ الفابیٹ کی اپنی ویلیو بھی اس رجحان سے متاثر ہوئی ہے اور اس کے شیئرز رواں سال تقریباً 46 فیصد بڑھ چکے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار اس کی AI توسیع پر اعتماد کر رہے ہیں۔

پچائی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بڑے پیمانے پر AI ماڈلز کی ٹریننگ اور ڈیٹا سینٹرز کی توسیع توانائی کی کھپت میں اضافہ کر رہی ہے، جس سے ماحولیاتی اہداف متاثر ہو رہے ہیں اور بجلی کے وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ AI ببل پھٹنے کی صورت میں کوئی بھی کمپنی مکمل طور پر محفوظ نہیں، حتیٰ کہ گوگل بھی نہیں۔

ماہرین کے مطابق پچائی کا انتباہ ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے اہم پیغام رکھتا ہے کہ سرمایہ کاری اور حقیقی نتائج کے درمیان بڑھتا ہوا فرق مستقبل میں بڑے جھٹکوں کا باعث بن سکتا ہے، اور متعدد اداروں کو اپنی حکمت عملی، بجٹ اور نتائج کے تخمینوں کا ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔