LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور آئی اے ای اے میں چشمہ-5 نیوکلیئر پاور پلانٹ کے سیف گارڈز معاہدے پر دستخط بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کرا دی گئی حکومتی سطح پر سمارٹ لاک ڈاؤن کی کوئی بات زیر بحث نہیں: طارق فضل چودھری پٹرولیم قیمتوں میں 100 روپے کے ریلیف سے عام آدمی کو کچھ سہولت ملے گی: مصدق ملک خلیجی خطے میں حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں: حاقان فیدان سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جائے: بیرسٹر گوہر پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 1421 پوائنٹس بڑھ گیا سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات گلگت بلتستان کابینہ میں بجٹ منظور، کم از کم اجرت 44 ہزار روپے مقرر سربیا کے صدر کا 27 ستمبر کو مستعفی ہونے کا اعلان اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی کال: اسلام آباد میں ہائی الرٹ اور ڈی چوک سمیت اہم شاہراہوں پر کنٹینرز کی تنصیب شروع امریکا ایران کشیدگی پھر عروج پر، پاسداران انقلاب کا امریکی ڈرون گرانے کا دعویٰ بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کے 7 رہنماؤں کو سزائے موت آزاد کشمیر کے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری، پولنگ 24 ستمبر کو ہوگی

پاکستان کا 2035 تک ایک کھرب ڈالر معیشت اور ڈیجیٹل تبدیلی کا عزم،وفاقی وزیر احسن اقبال

Web Desk

15 September 2026

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے چین کے شہر اُرمچی میں منعقدہ “2026 شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) ڈیجیٹل اکانومی فورم” سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل صارفین کی تعداد 15 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور گزشتہ دو سال کے دوران ڈیٹا کے استعمال میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں فائبر کنکشنز کی تعداد 30 لاکھ سے بڑھ کر 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور حکومت کا ہدف وائرڈ براڈ بینڈ کو ایک کروڑ گھرانوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق 35 فیصد سے کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے جبکہ خواتین کی شمولیت 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان کی آئی ٹی اور آئی سی ٹی برآمدات ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اگلا ہدف صرف سروسز کی برآمد نہیں بلکہ ٹیکنالوجی مصنوعات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور پروسیسنگ صنعتوں کا فروغ ہے۔ انہوں نے “اُڑان پاکستان” ویژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے ہدف کے لیے برآمدات، پیداوار، جدت اور انسانی وسائل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ ‘ای-پاکستان’ اس کا ایک اہم ستون ہے۔ اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت (AI)، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹرز پر کام تیز کر دیا گیا ہے اور ملک میں 7 جدید AI مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے ایس سی او کے پلیٹ فارم سے چار ترجیحی شعبوں میں عملی اقدامات کی تجاویز پیش کیں، جن میں ایک مشترکہ ‘ڈیجیٹل تجارتی راہداری’ کا قیام، سرحدی تجارت کی آسانی، کسٹمز و ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو باہم مربوط بنانا اور AI کے لیے مشترکہ فریم ورک کی تشکیل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان تعاون ترقی، روزگار، جدت، گرین انرجی اور علاقائی روابط پر مبنی ہے۔ احسن اقبال نے زور دیا کہ ڈیجیٹل ترقی کا فائدہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ خواتین، نوجوانوں، دیہی آبادی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) تک پہنچنا چاہیے۔