LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ

پاکستان کا 2035 تک ایک کھرب ڈالر معیشت اور ڈیجیٹل تبدیلی کا عزم،وفاقی وزیر احسن اقبال

Web Desk

15 September 2026

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے چین کے شہر اُرمچی میں منعقدہ “2026 شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) ڈیجیٹل اکانومی فورم” سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل صارفین کی تعداد 15 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور گزشتہ دو سال کے دوران ڈیٹا کے استعمال میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں فائبر کنکشنز کی تعداد 30 لاکھ سے بڑھ کر 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور حکومت کا ہدف وائرڈ براڈ بینڈ کو ایک کروڑ گھرانوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق 35 فیصد سے کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے جبکہ خواتین کی شمولیت 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان کی آئی ٹی اور آئی سی ٹی برآمدات ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اگلا ہدف صرف سروسز کی برآمد نہیں بلکہ ٹیکنالوجی مصنوعات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور پروسیسنگ صنعتوں کا فروغ ہے۔ انہوں نے “اُڑان پاکستان” ویژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے ہدف کے لیے برآمدات، پیداوار، جدت اور انسانی وسائل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ ‘ای-پاکستان’ اس کا ایک اہم ستون ہے۔ اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت (AI)، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹرز پر کام تیز کر دیا گیا ہے اور ملک میں 7 جدید AI مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے ایس سی او کے پلیٹ فارم سے چار ترجیحی شعبوں میں عملی اقدامات کی تجاویز پیش کیں، جن میں ایک مشترکہ ‘ڈیجیٹل تجارتی راہداری’ کا قیام، سرحدی تجارت کی آسانی، کسٹمز و ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو باہم مربوط بنانا اور AI کے لیے مشترکہ فریم ورک کی تشکیل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان تعاون ترقی، روزگار، جدت، گرین انرجی اور علاقائی روابط پر مبنی ہے۔ احسن اقبال نے زور دیا کہ ڈیجیٹل ترقی کا فائدہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ خواتین، نوجوانوں، دیہی آبادی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) تک پہنچنا چاہیے۔