LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات گلگت بلتستان کابینہ میں بجٹ منظور، کم از کم اجرت 44 ہزار روپے مقرر سربیا کے صدر کا 27 ستمبر کو مستعفی ہونے کا اعلان اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی کال: اسلام آباد میں ہائی الرٹ اور ڈی چوک سمیت اہم شاہراہوں پر کنٹینرز کی تنصیب شروع امریکا ایران کشیدگی پھر عروج پر، پاسداران انقلاب کا امریکی ڈرون گرانے کا دعویٰ بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کے 7 رہنماؤں کو سزائے موت آزاد کشمیر کے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری، پولنگ 24 ستمبر کو ہوگی قیدیوں کا پرائیویٹ علاج: سپریم اور ہائیکورٹس سے تمام متعلقہ درخواستوں کا ریکارڈ طلب امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: میل بیلٹس پر پابندیوں سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان,امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن اسحاق ڈار اور رافیل گروسی میں رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر اتفاق خیبرپختونخوا کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کا سفر جاری رکھیں گے: وزیراعظم وزیراعظم کی بارشوں، ممکنہ سیلاب کے پیش نظر اداروں کو تیار رہنے کی ہدایت اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہئے: جسٹس امین الدین خان ایران جنگ میں امریکا کو شدید عسکری اور معاشی نقصان پہنچا: امریکی محکمہ دفاع

امریکا ایران کشیدگی پھر عروج پر، پاسداران انقلاب کا امریکی ڈرون گرانے کا دعویٰ

Web Desk

15 September 2026

ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیجِ فارس کے تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم اور حساس علاقے ‘آبنائے ہرمز’ کی فضائی حدود میں پیش قدمی کرنے والے ایک امریکی MQ-1 ڈرون کو کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا ہے۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایرانی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جدید فضائی دفاعی نظام (Air Defense System) نے امریکی بلا پائلٹ طیارے (ڈرون) کا فوری سراغ لگایا، اسے نشانے پر لیا اور کارروائی کرتے ہوئے مار گرایا۔

آبنائے ہرمز کے اہم بحری راستے میں امریکی ڈرون کو نشانہ بنانے کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان خطے میں طویل عرصے سے کشیدگی برقرار ہے اور عالمی تجارت کے لیے اہم اس سمندری راہداری میں دونوں ممالک کی ملٹری اور نیول سرگرمیاں انتہائی تیز ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس واقعے سے خطے میں پہلے سے موجود سیکیورٹی خطرات اور کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب، ایرانی فورسز کی جانب سے پیش کیے گئے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ امریکی پینٹاگون یا مرکزی کمانڈ (CENTCOM) کی طرف سے بھی اس پر فوری کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اس لیے عالمی میڈیا اور دفاعی تجزیہ کار فی الحال امریکی ڈرون کو مار گرائے جانے کی خبر کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے یکطرفہ موقف اور دعوے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔