LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ پھر محروم، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج ٹرمپ ایران پر نئے حملوں کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں: نیویارک ٹائمز بچوں کے خون سے سودا کرنے والوں سے کیا مذاکرات کریں: دانیال چودھری پاکستان اور ویٹیکن کا بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر اتفاق ماہ ستمبر 2026 کے دوران ملک میں 5 ہزار 241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ سہیل آفریدی کا شارٹ مارچ دہشتگرد تنظیموں کے حق میں ہے: عظمیٰ بخاری ہر مصیبت برداشت کرنے کو تیار، اصولوں پر سمجھوتا نہیں ہوگا: سلمان اکرم راجہ خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا علیمہ خان کیخلاف کیس کا فیصلہ پھر مؤخر، سہیل آفریدی کی درخواست پر سماعت ملتوی پاکستان اور بحرین کا تجارت، توانائی اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق مریم نواز کا پنجاب کے ہر ضلع میں پی ایچ اے قائم کرنے کا فیصلہ شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گرد ہلاک وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

ہندو برادری کے افراد کو داخلے سے روکنے کے الزام مسترد، پاکستان کا دوٹوک موقف

Web Desk

6 November 2025

پاکستان نے ہندو برادری کے افراد کو ملک میں داخلے سے روکنے کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں اپنے تحریری بیان میں کہا کہ “حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”

ترجمان کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بابا گرو نانک کی سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر چار سے 13 نومبر 2025 تک بھارت سے آنے والے 2,400 سے زائد سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کیے۔

انہوں نے بتایا کہ چار نومبر کو کل 1,932 یاتری اٹاری واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے، تاہم تقریباً 300 ویزا رکھنے والے افراد کو بھارتی حکام نے سرحد عبور کرنے سے روک دیا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستانی امیگریشن کا پورا عمل منظم اور بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ “چند افراد کے پاس نامکمل دستاویزات تھیں اور وہ امیگریشن حکام کو تسلی بخش جوابات نہ دے سکے، اس لیے انہیں معیاری طریقہ کار کے تحت واپس بھیج دیا گیا۔”

ترجمان دفترِ خارجہ نے اس تاثر کو قطعی طور پر غلط اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا کہ ان افراد کو مذہبی بنیادوں پر داخلے سے روکا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ تمام مذاہب کے یاتریوں کو اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے خوش آمدید کہتا ہے اور اس مقصد کے لیے آسان اور شفاف نظام قائم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام خالصتاً انتظامی نوعیت کا تھا اور پاکستان کو اپنی سرزمین میں داخلے کو کنٹرول کرنے کا خودمختار حق حاصل ہے۔

ترجمان نے اس معاملے کو مذہبی رنگ دینے کی بھارتی کوشش کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارتی حکومت اور میڈیا کی تعصب زدہ سوچ ظاہر ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ مزید بڑھتی جا رہی ہے۔