LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسمبلیاں جب چاہیں گی دو تہائی اکثریت سے نئے صوبے بن جائیں گے: اعظم نذیر تارڑ روس کی یوکرین کو تنازع کے حل کیلئے ٹھوس مذاکرات کی پیشکش جوابی کارروائی میں امریکی فوج کے ایم کیو نائن ڈرون کو نشانہ بنایا گیا: پاسداران انقلاب ایرانی پارلیمنٹ سپیکر کی شہریوں سے پٹرول کی کھپت کم کرنے کی اپیل بشارالاسد دور کے خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق اہم سوالات حل ہوگئے: آئی اے ای اے جرمنی کا لیپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے میں روس کے ملوث ہونے کا الزام روس کے یوکرین میں فضائی حملے، ایک بھارتی سمیت 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی ایران کے جوابی حملے، اردن میں امریکی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکا کا ایران پر پھر حملہ، شادی کی تقریب پر بمباری، 4 افراد شہید، 30 سے زائد زخمی محفوظ ڈیجیٹل ماحول ہر بچے کا بنیادی حق، مؤثر قانون سازی وقت کی ضرورت ہے: سارہ احمد ایران پر حملے اردن میں ہمارے فوجی اڈے پر حملوں کا جواب ہیں: صدر ٹرمپ قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں پاکستان ہاؤس لندن میں عشائیہ، محسن نقوی کی بھی شرکت خیبرپختونخوا کے وسائل پر صوبے کا حق، بقایاجات کیلئے عدالت جائینگے: سہیل آفریدی پٹرول ایک روپے 8 پیسے، ڈیزل 51 پیسے فی لٹر مہنگا بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات دی جا رہی ہیں: عقیل ملک

H-1B ویزا سسٹم میں بڑی اصلاحات، زیادہ ہنر مند اور زیادہ تنخواہ والے امیدوار  ترجیح

Web Desk

23 December 2025

واشنگٹن میں محکمۂ داخلی سلامتی (DHS) نے H-1B ورک ویزا کے انتخابی نظام میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت رینڈم لاٹری سسٹم ختم کر کے زیادہ ہنر مند اور زیادہ تنخواہ لینے والے غیر ملکی امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی۔

امریکی امیگریشن حکام کے مطابق پرانا لاٹری نظام بعض امریکی آجرین کی جانب سے کم تنخواہ پر غیر ملکی ورکرز لانے کے لیے استعمال ہو رہا تھا، جس سے امریکی ملازمین متاثر ہو رہے تھے۔ نیا Weighted Selection System کانگریس کی منشا کے مطابق H-1B پروگرام کو شفاف بنانے اور امریکی ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

H-1B ویزا کی سالانہ حد 65 ہزار جبکہ امریکی اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والوں کے لیے 20 ہزار اضافی ویزے برقرار رہیں گے۔ نیا قانون 27 فروری 2026 سے نافذ ہوگا اور FY-2027 کے H-1B رجسٹریشن سیزن پر لاگو ہوگا۔

حکام کے مطابق یہ اقدام H-1B پروگرام میں بدعنوانی روکنے، امریکی معیشت کو مضبوط بنانے اور اعلیٰ مہارت کے حامل ورکرز کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔