LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

Web Desk

22 December 2025

ملکی معیشت میں ایک اور سنگِ میل عبور ہو گیا ہے، جہاں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس ذخائر 15.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

ذخائر میں اضافے کے باعث ملک کی درآمدی صلاحیت 2.6 ماہ سے تجاوز کر گئی ہے، جو فروری 2023 میں دو ہفتوں سے بھی کم رہ گئی تھی۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ اضافہ قرضوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ مقامی ترقی، مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا نتیجہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی تناسب 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد تک آ گیا ہے، جبکہ فارورڈ فارن ایکسچینج واجبات میں بھی تقریباً 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2023 میں جہاں مرکزی بینک کے ذخائر صرف 2.9 ارب ڈالر رہ گئے تھے، وہیں اب ان میں تقریباً ساڑھے پانچ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت محض عددی بہتری نہیں بلکہ معاشی استحکام، مضبوط ذخائر اور پائیدار بیرونی معاشی بحالی کی واضح علامت ہے۔