LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کا جنگ بندی کیلیے سعودیہ سے 51 ارب ڈالر ہرجانہ اور حکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ امریکا اور اسرائیل کا ایران پر مختصر اور شدید حملوں کا منصوبہ تیار ایران کا جوہری پروگرام پر ثالثوں کی تجاویز کا جائزہ، قطر کی سفارتی کوششیں رنگ لانے لگیں: نیویارک ٹائمز پیٹ ہیگستھ کا مواخذے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے اور عہدے پر برقرار رہنے کے عزم برطانیہ کے 2 بڑے ہوائی اڈوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں، یورپ بھر میں 12 پروازوں کا رخ موڑ دیاگیا پیٹرول اور ڈیزل سستا ہونےکے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں کمی کا اعلان بجلی صارفین پر 23 ارب 33 کروڑ روپےکا اضافی بوجھ ڈالنےکی تیاری، نیپرا میں درخواست دائر ڈیموکریٹک پارٹی کا صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا احتساب، اختیارات محدود کرنے کا اعلان جے ڈی وینس کا ایران جنگ ختم کرنے اور اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ یورپ کی 25 پروازوں کو بموں سے اڑانے کی دھمکی، متعدد کی ہنگامی لینڈنگ ظہران ممدانی کا ڈیموکریٹس سے انتخابی کامیابی عوامی ریلیف میں بدلنے کا مطالبہ امریکا میں صدارتی انتخابات کی تیاریاں، درجنوں رہنماؤں کا میدان میں آنے کا امکان ایران نے سعودیہ اور یمن کے حوثیوں کے جاری تنازع میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کر دیئے آبنائے ہرمز میں مزید تین آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع کراچی آنے والی نجی ایئرلائن کی پرواز دوران لینڈنگ بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی

ایران نے سعودیہ اور یمن کے حوثیوں کے جاری تنازع میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کر دیئے

Web Desk

6 November 2026

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کے بیانات پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جاری تنازع میں ایران کے ملوث ہونے کے تمام الزامات کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔

ترجمان اسماعیل بقائی نے الٹا یورپی یونین پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ یمنی عوام کے خلاف غیر قانونی پابندیوں کی حمایت اور ان کے معاشی محاصرے میں براہِ راست شریک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے حوثیوں کو کسی قسم کی فوجی امداد کی فراہم کے الزامات محض ‘جعلی خبریں’ (Fake News) ہیں، جن کا بنیادی مقصد خطے کے حقیقی حقائق کو چھپانا اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں اور یمن میں ان کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ اس بیان میں ایران سمیت تمام علاقائی فریقوں سے پرزور مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ حوثیوں کو ہر قسم کی فوجی اور لوجسٹک معاونت فراہم کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں۔