ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سکینڈل: جے آئی ٹی رپورٹ منظرِ عام پر، عبدالحفیظ شیخ اور کامران لاشاری مرکزی ماسٹر مائنڈ قرار
Web Desk
4 November 2026
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی اہم ترین شاہراہ پر قائم اربوں روپے کے متنازع پروجیکٹ ‘ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو’ میں ہونے والی سنگین مالی اور قانونی بے قاعدگیوں کے بارے میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) کی باضابطہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری اور وزیراعظم کی جانب سے رواں برس مئی میں نیب (NAB) کی سربراہی میں قائم کی گئی اس اعلیٰ سطحی کمیٹی میں ایف آئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور حساس اداروں کے سینئر حکام شامل تھے۔
جے آئی ٹی کی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ساڑھے 13 ایکڑ پر مشتمل یہ قیمتی زمین محض فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے الاٹ کی گئی تھی، تاہم نیلامی کے پہلے مرحلے کو سی ڈی اے (CDA) بورڈ کی منظوری کے بغیر منسوخ کر کے قوانین میں من مانی تبدیلیاں کی گئیں۔ بعد ازاں دھاندلی زدہ بولی جیتنے والے چار رکنی کنسورشیم کے بجائے لیز ایک ایسی کمپنی (بی این پی) کو جاری کر دی گئی جو کنسورشیم کا حصہ ہی نہیں تھی۔ تحقیقات کے مطابق ڈیل میں جمع کرائی گئی بینک گارنٹی اور جوائنٹ وینچر کی کاغذی کارروائی جعلی اور مشکوک تھی، جس میں کنسورشیم کے 2 ارکان کے دستخط جعلی پائے گئے جبکہ ایک گواہ کی تاریخِ دستخط کے وقت بیرونِ ملک موجودگی ثابت ہوئی۔ مزید برآں، 254 سروس اپارٹمنٹس کو غیر قانونی طور پر رہائشی یونٹس کے طور پر 99 سال کی ذیلی لیز پر فروخت کر کے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا گیا۔ جے آئی ٹی نے اس تمام تر ملی بھگت اور دھاندلی کا مرکزی “ماسٹر مائنڈ” عبدالحفیظ شیخ کے ساتھ ساتھ کامران لاشاری، فیصل اعوان، اظہر چوہدری، بریگیڈیئر نصرت اللہ اور مرحوم رائے نواز کھرل کو قرار دیا ہے۔
جے آئی ٹی نے رپورٹ میں وزیراعظم پاکستان کو 9 اہم اور سفارشات پیش کی ہیں۔ ان سفارشات میں عبدالحفیظ شیخ اور بی این پی (BNP) کو تمام سرکاری پروجیکٹس کے لیے بلیک لسٹ کرنے، پروجیکٹ کا ازسرنو قانونی جائزہ لے کر رہائشی استعمال کی اجازت فوری ختم کرنے، عمارت و زمین کی شفاف نیلامی، اور سی ڈی اے کی جانب سے متاثرہ اصل خریداروں کو رقم مع سود واپس کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ مزید برآں، یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ چونکہ ‘ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو’ وزارتِ خارجہ کا آفیشل پتا ہے، اس لیے اس پروجیکٹ کا نام تبدیل کیا جائے اور نیب کو 3 ماہ کے اندر اس تمام گھپلے پر احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی جائے۔
متعلقہ عنوانات
ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کا قانونی طور پر قبضہ حاصل کر لیا: محسن نقوی
4 November 2026
سعودی عرب کے ساتھ 3 ارب ڈالر قرض رول اوور ہوچکا ہے: وزیر خزانہ
4 November 2026
آزاد کشمیر کی حیثیت تبدیلی بارے سوشل میڈیا پر وائرل خبریں بے بنیاد ہیں: وزیراعظم
4 November 2026
آسٹریہ میں پاکستانی سفارت خانے کے اکاؤنٹنٹ کی خورد برد کا انکشاف
4 November 2026
سالک حسین کرپشن کے الزامات بارے ثبوت پیش کریں یا معافی مانگیں: عظمیٰ بخاری
4 November 2026
ون کانسٹیٹیوشن منصوبے کے متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے گا: احسن اقبال
4 November 2026
کے پی میں ایمرجنسی کے دوران وزیراعلیٰ کے اختیارات گورنر کو منتقل کرنے کی منظوری
4 November 2026
وفاقی کابینہ نے 10 روپے کا سکہ متعارف کروانے کی منظوری دیدی
4 November 2026