LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی عوام نے جنگ کے خلاف فیصلہ دے دیا: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کا سامنا، ڈیموکریٹ پارٹی واضح اکثریت سے کامیابی کی جانب گامزن بریت کے باوجود پولیس بھرتی سے نااہلی غیر قانونی قرار، 6 اہم اصول طے وزیراعظم آزاد کشمیر کا راولاکوٹ میں امن و امان اور انتظامی امور کا جائزہ مڈٹرم الیکشن کے نتائج قبول، ایران جنگ اور مہنگائی ریپبلکنز کی شکست کی وجہ بنی: ٹرمپ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کا مثبت رحجان ایران پر حملے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں: امریکی صدر ٹرمپ 10 یورپی ممالک کا یوکرین کی حمایت میں پولینڈ میں مشترکہ فوجی مشقوں کا اعلان نیویارک میں خسرہ کی وباء شدت اختیار کر گئی، 30 سال بعد پہلی موت اسرائیل کی فلسطینیوں کے ساڑھے 9 ہزار گھر تباہ کرنیکی تیاری، مالکان کو نوٹس جاری ڈیجیٹل ذرائع حق خودارادیت کی تحریکوں کو دبانے کیلئے استعمال کئے جا رہے: پاکستان انٹرنیٹ ٹیکنالوجی سے انسانی ترقی کا فرق بڑھنا نہیں چاہئے: چینی وزارت خارجہ امریکی وسط مدتی انتخابات: ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو واضح برتری حاصل عالمی منڈیوں میں اجناس کی قیمتوں میں رواں سال 23 فیصد اضافے کا امکان ہے: عالمی بینک وزیراعظم کی مہمند میں انسداد پولیو ٹیم پر حملے کی مذمت، دہشتگردی کے مکمل خاتمے کا عزم

ڈیموکریٹک امیدوار عبدل السید کا اکثریت ملنے پر امریکی صدر کے احتساب کا اعلان

Web Desk

4 November 2026

ریاست مشی گن سے امریکی سینیٹ کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالسید (Abdul El-Sayed) نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں عددی اکثریت حاصل ہوتی ہے تو وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت احتساب کریں گے اور جارحانہ جنگوں کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے۔

ریاست مشی گن میں وسط مدتی انتخابات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالسید نے کہا کہ ان کا مقصد صرف امریکی تاریخ کا پہلا مسلمان سینیٹر بننا نہیں، بلکہ وہ مشی گن کے تمام شہریوں کا حقیقی نمائندہ بن کر امریکی سینیٹ میں جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی انتخابی مہم کا بنیادی مقصد محض کوئی عہدہ یا خطاب حاصل کرنا نہیں بلکہ مشی گن کے عوام کے حقوق اور ان کی آواز کی بہترین نمائندگی کرنا ہے۔

ڈیموکریٹک رہنما نے انتخابات میں اپنی پوزیشن کے حوالے سے انتہائی پرامید ہونے کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگرچہ ایک متحرک انتخابی مہم کسی فتح کی حتمی ضمانت نہیں ہوتی اور آخری فیصلہ ووٹرز ہی کا ہوتا ہے، لیکن وہ عوام کی حمایت سے مکمل طور پر مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس میں اکثریت حاصل ہوتے ہی وہ عوامی بہبود، معاشی انصاف اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے احتساب کے لیے قانون سازی کا آغاز کریں گے۔