LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری

Web Desk

28 October 2026

انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو پیش آنے والے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں سہیل آفریدی سمیت دیگر مفرور ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے اس کا تفصیلی تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

عدالت کے جاری کردہ تحریری حکم نامے کے مطابق اس مقدمے میں اسپیشل پراسیکیوٹر نعمان الحق کاکاخیل کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے، جبکہ ریڈیو پاکستان سے جڑے ان مقدمات میں مجموعی طور پر 9 ملزمان تاحال مفرور ہیں۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ (پراسیکیوشن) کی جانب سے پولیس کا سپلیمنٹری چالان عدالت میں جمع کرا دیا گیا ہے، جس میں سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا، عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کو نامزد کیا گیا ہے جنہیں تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 204 کے تحت تمام نامزد مفرور ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت 4 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عدالتی حکم کے بعد پولیس کو سہیل آفریدی اور دیگر نامزد ملزمان کو حراست میں لینے کا قانونی اختیار مل گیا ہے، اور پولیس کسی بھی وقت سہیل آفریدی کو گرفتار کر سکتی ہے جبکہ ملزمان کو قانون کے مطابق گرفتار کر کے عدالت کے روبرو پیش کرنا اب پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالت میں پیشی کے بعد مقدمے کا پری ٹرائل (Pre-trial) مرحلہ شروع ہو جائے گا، اور عدالت تفتیش کے لیے سہیل آفریدی کو پولیس کے حوالے بھی کر سکتی ہے، جبکہ کسی بھی قسم کی ضمانت کی درخواست دائر کرنے کے لیے ملزم کا خود عدالت میں پیش ہونا لازمی ہوتا ہے۔ قانونی ماہرین نے مزید واضح کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود عدم پیشی کی صورت میں ان ملزمان کو باقاعدہ اشتہاری قرار دیا جا سکتا ہے، اور اشتہاری قرار دیے جانے کی صورت میں ملزمان کو قانون کے تحت مزید 10 سال تک کی قید کی سزا کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سہیل آفریدی کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ممکنہ نااہلی کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔