LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا

Web Desk

28 October 2026

برازیل کے نائب صدر جیرالڈو آلکمین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس الزام کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے برازیل کے صدارتی انتخابات کو “دھاندلی زدہ” قرار دیا تھا۔

عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق برازیلی نائب صدر نے اپنے جاری کردہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی خودمختار ملک کی داخلی سیاست میں مداخلت نہیں کی جانی چاہیے، اور یہ بین الاقوامی تعلقات کا ایک بنیادی اصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ اور قانونی تحفظات کے نفاذ کے حوالے سے برازیل دنیا بھر کے لیے ایک بہترین مثال ہے، جہاں جمہوریت میں یہ فیصلہ صرف عوام کرتے ہیں کہ کون سا امیدوار الیکشن جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ برازیل کے صدارتی انتخابات بظاہر دھاندلی زدہ تھے، اور انہوں نے پولنگ کے اوقات کار میں توسیع کے فیصلے کو بھی غیر معمولی قرار دیا تھا۔

مقامی میڈیا نے برازیل کی سپریم الیکٹورل کورٹ کے اعداد و شمار کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ اتوار کے روز ووٹنگ کے مقررہ وقت شام 5 بجے کے بعد صرف 34 ہزار کے قریب ووٹ ڈالے گئے، جو کہ کل ڈالے گئے مجموعی ووٹوں کا محض 0.03 فیصد بنتے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کی شاندار کامیابی ان چند ووٹوں پر بالکل منحصر نہیں تھی، کیونکہ انہوں نے لبرل پارٹی کے حریف امیدوار فلاویو بولسونارو کو تقریباً 44 لاکھ ووٹوں کی واضح اور بڑی برتری سے شکست دی، اور لولا دا سلوا نے مجموعی ووٹوں کا 51.79 فیصد حصہ حاصل کیا۔ یاد رہے کہ شدید بارشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں تعطل کے باعث بعض ووٹرز کو پولنگ سٹیشنز تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے پیش نظر سپریم فیڈرل کورٹ نے اتوار کو ووٹنگ کے وقت میں دو گھنٹے کی توسیع کرتے ہوئے اسے شام 7 بجے تک جاری رکھنے کی مجاز اجازت دی تھی، تاہم جو پولنگ سٹیشنز اپنے مقررہ وقت پر بند ہو چکے تھے انہیں دوبارہ نہیں کھولا گیا۔