LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا: وائٹ ہاؤس راجن پور میں خوفناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 9 افراد جاں بحق، 36 زخمی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کا سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، میاں بیوی اور 17 سالہ نوجوان سمیت 4 فلسطینی شہید امریکا کے ساتھ کشیدگی میں کمی کیلئے زیلنسکی کی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات سینٹ کام کی آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کے بارودی سرنگوں سے ٹکرائے جانے کی تردید ملتان: یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم توقیر نذیر مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک مڈ ٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی، ریپبلکنز کے لیے خدشات بڑھ گئے ایران کا اقوام متحدہ سے امریکا اور اسرائیل کی دھمکیاں رکوانے کا مطالبہ سعودی و کویتی وزرائے خارجہ کی حوثی حملوں اور دھمکیوں کی مذمت یمن کی مسلح افواج کے 700 سے زائد حملے، سیکڑوں حوثی جنگجو ہلاک، متعدد زخمی ملتان میں یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم مقابلے میں ہلاک حوثی باغیوں نے تہران کی ثالثی کی پیشکش کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا، ایران لاہور: مضرِ صحت دودھ پینے سے 2 سالہ بچہ جاں بحق، ایک کی حالت تشویشناک روس امریکی تجاویز سننے کیلئے تیار، لیکن سیاسی رعایتیں نہیں دیں گے: سرگئی لاوروف

انسانی حقوق کی آڑ میں بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب

Web Desk

18 October 2026

انسانی حقوق کے نام پر پاکستان مخالف سرگرمیوں اور عالمی سطح پر زہر افشانی کے لیے بھارت اور کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مذموم گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔

انٹیلی جنس ذرائع کی جانب سے جاری ہونے والے سنسنی خیز انکشافات کے مطابق، اپریل 2026 میں لندن میں قائم بھارتی ہائی کمیشن نے ایک منظم سازشی منصوبے کے تحت کالعدم ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد جون 2026 میں بھارتی ہائی کمیشن کے عہدیدار پرمود کھیم چندانی اور بھارتی میڈیا ادارے ‘ٹائمز ناؤ’ کے صحافی زکا جیکب کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں آزاد جموں و کشمیر میں بدامنی پھیلانے اور کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے من گھڑت بیانیے کی عالمی سطح پر تشہیر کے لیے ایک نئی تنظیم کے قیام پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق 24 جون 2026 کو بھارتی ہائی کمیشن نے اظہر احمد، یاسر شفاعت اور ڈاکٹر اشتیاق خالق جیسے شرپسندوں کو آزاد کشمیر میں سکیورٹی حالات خراب کرنے کے لیے تیار کیا۔ اس تمام سازشی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جون کے مہینے میں بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے ان شرپسندوں کو 17 واٹس ایپ کالز کی گئیں۔ بعد ازاں 30 جولائی 2026 کو برطانیہ میں انسانی حقوق کی آڑ میں ‘جموں کشمیر ہیومن رائٹس آرگنائزیشن’ (JKHRO) نامی این جی او رجسٹر کروائی گئی۔ پرمود کھیم چندانی خود اس کی رجسٹریشن میں نامزد پائے گئے، جس نے اس منصوبے کا پول کھول دیا۔

اس نام نہاد چار ماہ پرانی این جی او نے آزاد کشمیر میں جھوٹ پر مبنی رپورٹس تیار کیں اور ‘ٹائمز ناؤ’، ‘دی انڈیپنڈنٹ’ اور ‘کشمیر ٹائمز’ جیسے میڈیا اداروں کے ذریعے پاکستان مخالف زہریلے پروپیگنڈے کو دنیا بھر میں پھیلانے کی کوشش کی۔