LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس 250 پوائنٹس بڑھ گیا اہم سائبر سکیورٹی اپ ڈیٹ کے بعد دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی طور پر بند بیرون ملک بیٹھے یوٹیوبرز پی ٹی آئی کے سب سے بڑے دشمن ہیں: خواجہ آصف مریم نواز کا خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم پر اظہار برہمی امریکا اوراسرائیل کا وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر شدید حملے کا منصوبہ جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی کے خاتمے کیلئے کل ملک گیر احتجاج کا اعلان سعودی آرامکو آئل فیلڈ اور دمام ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 8 زخمی پاکستان کو قطر سے اکتوبر کا دوسرا ایل این جی کارگو موصول افغان طالبان اہلکاروں کی چینی سرحد پر بھی دراندازی کی کوشش، چین کی سخت تنبیہ امریکا کو آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کیلئے شرائط پوری کرنی ہونگی: ایران کا دو ٹوک مؤقف ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلی میں مخالف نعرے لگنا معمول بن گیا محمد باقر کی مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات، جنگ کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال دبئی میں او بی ایس گلوبل کی افتتاحی تقریب، عالمی کاروباری روابط کے نئے دور کا آغاز واشنگٹن نے مذاکرات کے دوران ایران پر 2 مرتبہ حملے کئے: اسماعیل بقائی فرانس میں پرتشدد مظاہرے، لوٹ مار، پیرس کے اہم علاقوں میں احتجاج پر پابندی عائد

یمن کی مسلح افواج کے 700 سے زائد حملے، سیکڑوں حوثی جنگجو ہلاک، متعدد زخمی

Web Desk

21 October 2026

یمنی مسلح افواج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثی باغیوں کے خلاف مختلف محاذوں پر شدید عسکری کارروائیوں کے دوران 744 حملے کیے گئے ہیں۔

فوجی ترجمان کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں 200 حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہو کر لڑنے کے قابل نہیں رہے، جبکہ دشمن کے استعمال میں آنے والی 90 فوجی گاڑیاں اور دیگر اہم عسکری سازوسامان تباہ یا شدید نقصان سے دوچار ہوا ہے۔ فضائیہ، ڈرون یونٹس، فیلڈ آرٹلری اور اسنائپر یونٹس کی مشترکہ کارروائیوں میں حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، اسلحہ ڈپوز اور رسدی راستوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔

صوبہ تعز سمیت مشرقی، جنوبی اور مغربی محاذوں پر یمنی فوج کی پیش قدمی تیزی سے جاری ہے جس کے باعث حوثی باغی پسپائی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ عسکری حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائیاں انتہائی نپی تلی حکمت عملی کے تحت صرف عسکری اہداف کے خلاف کی جا رہی ہیں تاکہ عام شہریوں اور سول تنصیبات کو محفوظ رکھا جا سکے۔