LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ٹرمپ نے بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس میں سے کسی ایک کا نام تبدیل کرکے ’بحر ٹرمپ‘ رکھنے کی تجویز دے دی روسی تیل تنصیبات پر حملوں کی صورت میں امریکا کی یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنےکی دھمکی بھارتی پرواز میں پاور بینک سے آگ لگ گئی، حیدرآباد میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی فراری کمانڈر نور خان نے 60 ساتھیوں سمیت سوئی میں ہتھیارڈال دیے جبوتی سے یمن جانیوالے تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاک ایمازون کے بانی کی جیف بیزوز کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے حیران کن پیشگوئی اے آئی اور جوہری تنازع 2100 میں انسانیت کی بقا کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں، رپورٹ میں انتباہ برطانیہ: وائلڈ لائف پارک میں شیر کا حملہ، ایک شخص ہلاک اسلام آباد میں ریڈ الرٹ جاری، پولیس کی بھاری نفری تعینات کے پی میں ایمرجنسی مسترد کرتے ہیں، تحریک انصاف کا وفاق سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ بھارتی ریاست منی پور میں بدامنی، مودی حکومت کشیدگی پر قابو پانے میں بری طرح ناکام افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کے شواہد ایک بار پھر سامنے آگئے ایران کی سعودیہ کو یمن سے مذاکرات کیلئے ہر ممکن تعاون کی پیشکش آبنائے ہرمز میں سُپر آئل ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کی ویڈیو جاری

وزیراعلیٰ کے پی نے لانگ مارچ کا اگلا لائحہ عمل دے دیا، 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کا اعلان

Web Desk

10 October 2026

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کے خلاف جاری اپنے لانگ مارچ کا اگلا تحرک اور لائحہ عمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تمام احتجاجی قافلے 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر جمع ہوں گے جہاں سے ہزارہ، پشاور، ملاکنڈ اور کوہاٹ ڈویژنز کے لیے آئندہ کی حکمتِ عملی کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ شبقدر چوک چارسدہ میں لانگ مارچ کے مظاہرین اور شرکا سے دھواں دار خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت، معاشی پالیسیوں اور رجیم چینج آپریشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے الزام عائد کیا کہ بند کمروں میں کیے جانے والے غیر آئینی فیصلوں نے ملک کی معیشت، قانون کی حکمرانی اور ترقی کے سفر کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں غربت کی شرح 48 فیصد اور مہنگائی 80 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ورلڈ رول آف لا انڈیکس میں پاکستان 143 ممالک میں سے 130 ویں نمبر پر گر چکا ہے۔ فوجی آپریشنز اور سیکیورٹی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2004 سے 2026 تک ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے باوجود بدامنی کا خاتمہ نہیں ہو سکا کیونکہ طاقت کے استعمال سے زیادہ سویلین اختیارات کی بحالی اور درست پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی فنڈز کے 5 ہزار ارب روپے سے زائد کے بقایا جات کی فوری ادائیگی کا بھی مطالبہ کیا۔