LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جکارتا میں پاکسان کی آئی ٹی انڈسٹری کا ڈنکا: “ایشین اوسیانین ایوارڈز” میں 11 عالمی اعزازات اپنے نام کر لیے جاوید ہاشمی کا گھر کے محاصرے کا دعویٰ: “تمام رکاوٹیں توڑ کر چونگی نمبر 9 ملتان پہنچوں گا پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی: KSE-100 انڈیکس 1138 پوائنٹس گر گیا سرحد پار سے آنے والی آلودہ ہوا سموگ کا سبب، یکطرفہ نہیں علاقائی اپروچ کی ضرورت ہے: مریم اورنگزیب ملک میں سونے کی قیمتوں کو پر لگ گئے: فی تولہ سونا 4 لاکھ 35 ہزار روپے کی سطح سے تجاوز کر گیا حکومت نے اچانک مذاکراتی میز پر دہشت گردی کا ایجنڈا رکھا، ایمرجنسی اور گورنر راج کی باتیں کی گئیں: راجہ ناصر عباس خیبرپختونخوا کو حکومت کی نااہلی کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے: بلال اظہر کیانی آئی ایم ایف کا وسیع پیمانے پر فیول سبسڈی سکیم فوری ختم کرنے کا مطالبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکمرانی، کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے: امیر مقام کراچی بندر گاہ سے یورپ کیلئے براہ راست شپنگ سروس بحال وزیرِ اعظم کی ڈیجیٹل نیشن پاکستان پروگرام پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کے پی کا بُرا حال، پی ٹی آئی عمران خان کے بیانیہ میں مصروف ہے: علی شاہ باچا لانگ مارچ کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال، سہیل آفریدی سے جواب طلب منشیات و اسلحہ برآمدگی کیس، عدالت کا انمول عرف پنکی کو پیش کرنے کا حکم پاک فوج کا اہم اقدام، استور سے سکردو تک 66 کلومیٹر روڈ ٹریک مکمل

حکومت نے اچانک مذاکراتی میز پر دہشت گردی کا ایجنڈا رکھا، ایمرجنسی اور گورنر راج کی باتیں کی گئیں: راجہ ناصر عباس

Web Desk

8 October 2026

سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے سیاسی مذاکرات کے دوران اچانک اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے دہشت گردی کا ایجنڈا میز پر رکھ دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اپوزیشن صرف بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آئی تھی، تاہم جب محسن نقوی اور طلال چوہدری پر مشتمل حکومتی کمیٹی نے دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا تو اپوزیشن کمیٹی کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے اس پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔

علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی، گورنر راج اور آپریشن جیسے سخت آپشنز کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی اقدام مولانا فضل الرحمن، ن لیگ، پیپلز پارٹی اور تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے ہی مؤثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی چیئرمین کی توثیق کے بغیر کیا گیا کوئی بھی فیصلہ قابلِ عمل ہوگا نہ ہی پائیدار، کیونکہ پاکستان کے سیاسی و معاشی اور امن و امان کے بحران کا حل بانی چیئرمین کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔