LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی کا شارٹ مارچ دہشتگرد تنظیموں کے حق میں ہے: عظمیٰ بخاری ہر مصیبت برداشت کرنے کو تیار، اصولوں پر سمجھوتا نہیں ہوگا: سلمان اکرم راجہ خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا علیمہ خان کیخلاف کیس کا فیصلہ پھر مؤخر، سہیل آفریدی کی درخواست پر سماعت ملتوی پاکستان اور بحرین کا تجارت، توانائی اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق مریم نواز کا پنجاب کے ہر ضلع میں پی ایچ اے قائم کرنے کا فیصلہ شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گرد ہلاک وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز سعودی عرب کی سلامتی کیلئے پُرعزم، حوثی ملیشیا حملے فوری بند کر دے: وزیراعظم سابق امریکی میجر کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت براہِ راست نشر ہوگی: پینٹاگون پی ٹی آئی سے مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کی زیادہ امید نہیں: رانا ثناء اللہ دشمن سے طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے: ایران آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات

شام حوثیوں کیخلاف لڑنے کیلئے یمن میں اپنی فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، امریکی نیوز ویب سائٹ

Web Desk

7 October 2026

امریکی خبر رساں ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ (Axios) نے 3 امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ شام نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری زمینی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے اپنے 10 ہزار سے 20 ہزار فوجی بھیجنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاض میں منعقدہ حالیہ اجلاس کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور شامی صدر احمد الشرع کے درمیان اس تجاویز پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

حکام کے مطابق سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی فورسز کی مدد اور دارالحکومت صنعا و باب المندب کو حوثیوں سے واگزار کرانے کے لیے شامی فوجی دستوں کو تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے، جن میں دمشق کے قریب تعینات 90ویں ڈویژن اور 84ویں ڈویژن کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اور امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی ان مذاکرات پر مشاورت کی ہے اور امریکہ کو اصولی طور پر دو اہم اتحادیوں کے اس مجوزہ سیکیورٹی تعاون پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔