LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات برطانیہ کا اپنے شہریوں کو سعودی ایئرپورٹس کی طرف سفر نہ کرنے کا مشورہ امریکی صدر کا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان موٹروے پولیس کی ایمانداری، شاہراہ پر ملنے والے لاکھوں روپے اصل مالک کے حوالے کر دیے روس کے شہر ارکتسک میں محقق کی ہلاکت: طاعون کے پھیلاؤ اور لیبارٹری حادثے کے تمام دعوے مسترد روسی صدر کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، علاقائی بحران کے حل میں مدد کی پیشکش برطانیہ میں امریکی اہلکاروں کے زیر استعمال ایئر بیس میں داخلے پر 2 افراد گرفتار امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر کی آج یوکرینی حکام سے ملاقات طے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 اہلکار زخمی حوثیوں کے حملے، متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کی سعودیہ کیلئے پروازیں معطل یورپی یونین کا بحیرہ احمر میں جہازوں کی حفاظت کیلئے بحری مشن مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ امریکا کا وینزویلا کے معزول صدر نکولس اور انکی اہلیہ پر امریکی شہریوں پر تشدد کی سازش کا الزام فرانس میں تعلیمی نظام کی ناقص صورتحال کیخلاف طلبہ کا ملک گیر احتجاج تیسرے ہفتے داخل ادب کا نوبیل انعام شاعرہ اور مضمون نگار این کارسن کے نام یوکرین کے روس میں 20 سے زائد علاقوں پر ڈرون حملے، 399 ڈرون تباہ

آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات

Web Desk

9 October 2026

آبنائے ہرمز کے جنوبی بحری راستے میں یکے بعد دیگرے کئی شدید دھماکوں کی اطلاعات کے بعد خطے میں بحری سلامتی اور خام تیل کی عالمی سپلائی سے متعلق سیکیورٹی خدشات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا اور خبر رساں ایجنسی “فارس” نے غیر ملکی و مقامی فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ “غیر مجاز” اور تہران کے متعین کردہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے تیل بردار بحری جہاز سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں (Sea Mines) سے ٹکرا گئے، جس کے بعد دھماکے وقوع پذیر ہوئے۔

ایرانی حکام کی جانب سے اس سے قبل تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ تہران کی باضابطہ اجازت کے بغیر مقررہ راستوں کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔ ابھی تک ان دھماکوں کے نتیجے میں متاثر ہونے والے جہازوں کی درست تعداد، ان کی ملکیت اور ممکنہ جانی و مالی نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ عالمی سمندری نگراں اداروں (UKMTO) اور بین الاقوامی بحری شراکت داروں کی جانب سے صورتحال کی باریک بینی سے نگرانی کی جا رہی ہے