LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اپوزیشن جماعتوں کا آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پر مشاورت کا فیصلہ مذاکرات کی پیشکش موجود، پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرنا ہو گا: رانا ثناء اللہ بحیرہ احمر میں امریکی ہیلی کاپٹر گرنے کی خبر بے بنیاد ہے: امریکی سینٹکام ابوظہبی میں اے آئی ایوری تھنگ گلوبل 2026، پاکستان پویلین کا افتتاح بانی پی ٹی آئی کے کزن قاسم زمان کی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری اسحاق ڈار سے برطانوی وزیر مملکت اسٹیفن ڈاؤٹی کی ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو نشانِ امتیاز عطا کردیا گیا روسی لیب ورکر کی پراسرار موت، رابطے میں 4 افراد میں کورونا اور رائنو وائرس کی تصدیق عالمی امن کے لیے مکالمے اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا: یوسف رضا گیلانی اسرائیلی فوج ہائی الرٹ، حماس کے ممکنہ حملے پر غزہ کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی: کاٹز ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول یقینی بنایا جائے: شرمیلا فاروقی محمود اچکزئی نے اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات کیلئے ہدایات جاری کر دیں امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے: انتونیو گوتریس وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کرنے کی پیشکش ایل این جی سپلائی پر خدشات، حکومت کا قطر سے 3 کارگو لینے کا فیصلہ

روشنی سے دماغی خلیوں کو کنٹرول کرنے والی تحقیق پر 3 سائنس دانوں کو نوبیل انعام

Web Desk

5 October 2026

سال 2026ء کا نوبیل انعام برائے طب (Physiology or Medicine) روشنی کے ذریعے دماغی خلیوں کی سرگرمی کو کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجی ‘آپٹوجنیٹکس’ (Optogenetics) تیار کرنے والے تین نامور سائنس دانوں کے نام کر دیا گیا ہے۔ سویڈن کے نوبیل اسمبلی نے اعلان کیا کہ امریکا کے کارل ڈائسراتھ (Karl Deisseroth) اور جرمنی کے پیٹر ہیگمین (Peter Hegemann) اور جارج ناگل (Georg Nagel) کو مشترکہ طور پر اس عظیم الشان اعزاز کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق اس انقلابی ٹیکنالوجی کی بدولت زندہ دماغ کے اندر انفرادی عصبی خلیوں (Brain Cells/Neurons) کو روشنی کی مدد سے فعال یا غیر فعال کرنا ممکن ہوا، جس سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں بے مثال پیش رفت حاصل ہوئی ہے کہ دماغ معلومات کیسے پروسیس کرتا ہے۔ اس تحقیق کی بنیاد 1990ء کی دہائی میں ہیگمین اور ناگل کی جانب سے روشنی کے لیے حساس پروٹینز کی دریافت تھی، جسے بعد میں کارل ڈائسراتھ نے چوہوں کے عصبی خلیوں پر استعمال کر کے عملی شکل دی۔ اس وقت آپٹوجنیٹکس کے ذریعے شیزوفرینیا، الزائمر، پارکنسنز، مرگی اور ذہنی ڈپریشن جیسے پیچیدہ امراض کا علاج تلاش کرنے کے ساتھ بینائی بحال کرنے کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ تینوں سائنس دانوں کو 12 ملین سویڈش کرونا (Swedish Krona) کی انعامی رقم بھی مشترکہ طور پر دی جائے گی